خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں جبکہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے خطرات کے باوجود سیکیورٹی واپس لے لیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور سیکیورٹی واپس لینے پر سہیل آفریدی حکومت پر برس پڑے
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا نام لیے بغیر کہا کہ ان سے وزیراعلیٰ ہاؤس نے سیکیورٹی واپس لے لی اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے متعلقہ اسٹاف نے انہیں بتایا کہ اوپر سے احکامات ملے ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ علی امین کے ترجمان فراز مغل نے اپنے بیان میں سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سہیل آفریدی علی امین گنڈاپور کو بلٹ پروف گاڑی بھی دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاؤس نے علی امین سے سیکیورٹی واپس لینے کی تردید کی اور ساتھ ہی علی امین گنڈاپور کی سکیورٹی کی تفصیلات بھی پبلک کر دیں جس سے دونوں کے درمیان اختلافات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق علی امین کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے اور ان کے ساتھ مجموعی طور پر 70 سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔
پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات
پاکستان تحریک انصاف اگرچہ اندرونی اختلافات کی تردید کرتی ہے لیکن پارٹی کے اندر اس وقت شدید گروپنگ موجود ہے۔ پارٹی کے اندرونی معاملات سے باخبر رہنماؤں کے مطابق پی ٹی آئی مرکزی اور صوبائی سطح پر شدید اختلافات کا شکار ہے۔
مزید پڑھیے: کیا سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی؟
ان کے مطابق پارٹی کے اندر کئی گروپس ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں اس وقت سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور گروپ سرگرم ہیں اور آمنے سامنے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ میڈیا یا ورکرز کے سامنے کھل کر ایک دوسرے کے خلاف بات نہیں کی جاتی لیکن اندرونی اجلاسوں یا ملاقاتوں میں سخت تنقید کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی ابتدا میں علی امین گنڈاپور گروپ کا ہی حصہ تھے جنہیں روپوش رہنما مراد سعید کی حمایت بھی حاصل رہی لیکن علی امین کو اچانک ہٹانے اور سہیل آفریدی کی نامزدگی کے بعد اختلافات شروع ہوئے۔
ان کے مطابق علی امین گنڈاپور اسلام آباد میں دھرنے کے دوران اچانک سامنے آئے اور پارٹی قیادت پر بھی سخت تنقید کی۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل میں علی امین گنڈاپور شدید غصے میں ہیں اور کافی عرصے کی خاموشی کے بعد جب وہ منظرِ عام پر آئے تو ان کے غصے کا اندازہ ہو گیا۔
’علی امین گنڈاپور اس وقت کسی سے بھی خوش نہیں ‘
علی امین گنڈاپور کے مطابق وہ اس وقت اپنے آبائی حلقے ڈیرہ اسماعیل خان پر توجہ دے رہے ہیں تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ ناراضی کے باعث پارٹی اجلاسوں میں شرکت نہیں کر رہے۔
ان کے مطابق جب سے انہیں وزارتِ اعلیٰ سے ہٹایا گیا ہے انہوں نے کسی اجلاس یا میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔
مزید پڑھیں: ’لگتا ہے پھر سے لانچ کردیا‘، علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیانات پر پی ٹی آئی ہمدرد ناراض
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی عدم موجودگی میں پی ٹی آئی شدید اختلافات کا شکار ہے جنہیں شاید صرف عمران خان ہی ختم کر سکتے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار طارق وحید کے مطابق علی امین کا سہیل آفریدی اور پارٹی سے اختلافات کی بڑی وجہ انہیں اچانک وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا آپسی اختلاف صرف اور صرف کرسی کی وجہ سے ہے۔
طارق وحید نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کو اعتماد میں لیے بغیر حتیٰ کہ اطلاع دیے بغیر اچانک ہٹا دیا گیا اور غیر متوقع طور پر سہیل آفریدی کی انٹری سے دونوں کے درمیان ’اسٹیٹس پرابلم‘ پیدا ہونا فطری تھا۔
ان کے مطابق اس سے قبل سہیل آفریدی کو گنڈاپور کیمپ کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ علی امین گنڈاپور نے اعلانیہ طور پر اس فیصلے کو تسلیم کیا لیکن اندرونِ خانہ بے ڈھنگے انداز میں نکالے جانے پر انہیں شدید تکلیف ہوئی جو اب بھی موجود ہے۔ اسی لیے چند ماہ کی خاموشی کے بعد وہ تند و تیز لہجے میں سامنے آئے ہیں اور عمران خان کے سوا پارٹی کی تقریباً تمام قیادت پر تنقید کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی اندرونی اختلافات کا شکار، علی امین گنڈاپور کا پارٹی سے قطع تعلق، معاملہ کیا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ شاید خود کو سیاسی طور پر ریلیونٹ رکھنے اور پارٹی میں الگ شناخت بنانے کی کوشش بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک سیکیورٹی واپس لینے کا معاملہ ہے، یہ دعویٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے کیا گیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سنٹرل پولیس آفس نے اس کی تردید کی ہے۔ آزاد ذرائع سے اس معاملے کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
صحافی عارف حیات کے مطابق سہیل آفریدی اور علی امین کے اختلافات کی ایک وجہ عمران خان کی بہنیں بھی ہیں جن کے علی امین گنڈاپور سے تعلقات انتہائی خراب ہیں جبکہ مراد سعید بھی علی امین سے لاتعلقی اختیار کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزارت اعلیٰ سے ہٹنے کے بعد اب علی امین گنڈاپور کیا کررہے ہیں؟
ان کے مطابق علی امین کا خیال ہے کہ مراد سعید اور عمران خان کی بہنوں نے مل کر ان کے خلاف سازش کی اور انہیں وزارت اعلیٰ سے ہٹوایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور عمران خان کی بہنوں اور سہیل آفریدی پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔
عارف حیات کے مطابق سہیل آفریدی کے آنے کے بعد بھی عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی جس کا فائدہ اب علی امین گنڈاپور اٹھانا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیے: سہیل آفریدی نے نوکری بچانے کے لیے رہائی فورس کا اعلان کیا، خواجہ آصف
ان کے مطابق علی امین اب ورکرز میں اپنی مقبولیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے پارٹی اختلافات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔












