کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

جمعہ 27 فروری 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عمران خان اب ایک فُل ٹائم سیاستدان ہیں، ان کے سیاسی مداحین بھی بہت ہیں اورناقدین کی بھی کمی نہیں۔ آج کل وہ ٹف ٹائم سے گزر رہے ہیں، اللہ ان کے لیے آسانی فرمائے۔

  عمران خان کی سیاست متنازع سہی، مگر ان کا بطور کرکٹر کردار بہت بڑا ، اہم اور بڑی حد تک غیرمتنازع ہے۔ ان کے مخالفین بھی مانتے ہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ کا بہت بڑا نام ہیں۔ پاکستانی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان جس نے نہ صرف ورلڈ کپ جیتا بلکہ پاکستان کرکٹ کو بہت کچھ دیا۔ وسیم اکرم، وقار یونس، عاقب جاوید، انضمام الحق، مشتاق احمد ، معین خان وغیرہ عمران خان کے بغیر کبھی نمایاں نہ ہو پاتے، کئی تو ٹیم میں بھی نہ آ سکتے۔ عبدالقادر جیسے لیگ اسپنر کو عمران خان ہی نے استعمال کیا اور وہ لیجنڈ بنے۔

عمران خان ایک دلیر اور فائٹنگ کپتان تھے، لڑنے پر وہ یقین رکھتے تھے، اپنے مخالفین کو وہ پراپر کرکٹ کھیل کر ہرانے کے قائل تھے۔ کرکٹ میں نیوٹرل امپائرنگ عمران خان ہی کی بدولت آئی۔

یہ بھی پڑھیں:عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

اسی عمران خان کے کرکٹ کے بارے میں بعض اصول اور فارمولے ایسے ہیں جن کے بارے میں کاش پاکستانی کرکٹ ٹیم کے  موجودہ کوچ مائیک ہیسن اور قومی ٹیم کے ناکام، تھکے ہارے کپتان سلمان علی آغا نے کچھ سنا ہوتا۔ کاش انہوں نے عمران خان کی یہ 3 نصیحتیں سنی ہوتیں، ان پر عمل کیا ہوتا تو آج پاکستانی ٹیم کا یہ حال نہ ہوتا۔ انڈیا کے ہاتھوں ہمیں شرمناک شکست نہ ہوتی۔ انگلینڈ سے ہم جیتا ہوا میچ نہ ہارتے۔ یہ عمران خان کے درحقیقت مشورے ہی ہیں جو وہ اپنے نوجوان کرکٹرز کو بار بار دیتے رہے۔

میچ وننگ کھلاڑی لازمی کھلائے جائیں

عمران خان یہ بات کہا کرتے تھے کہ میں اپنی ٹیم میں سب سے پہلے میچ وننگ کھلاڑی شامل کرتا ہوں۔ ایسے جو امپیکٹ پلیئر ہوں، جو اپنے کھیل سے میچ کا پانسہ پلٹ دیں۔ ان کے کچھ ایشوز ہوسکتے ہیں، ٹمپرامنٹ ایشو یا کچھ اور، مگر ان کو ہینڈل کر کے میچ وننگ کھلاڑی لازمی کھلانے چاہییں۔

  اگر موجودہ ٹیم کے کپتان عمران خان ہوتے تو وہ ہر حال میں میچ وننگ اسپنر ابرار احمد کو انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں شامل کرتے۔ وہ فخر زماں کو انڈیا کے خلاف کھلاتے کہ وہ امپیکٹ کھلاڑی، بڑے میچز جتوانے والا ہے۔

 اگر انگلینڈ کے خلاف ٹیم میں ابرار جیسا کوالٹی اسپنر ہوتا تو عین ممکن تھا رزلٹ مختلف ہوتا۔ اچھے اور بڑے باؤلر کو بھی کسی میچ میں رنز پڑ سکتے ہیں، اس کا کوئی آف ڈے بھی ہوتا ہے، مگر بہرحال ایک کوالٹی باؤلر پھنسے ہوئے مشکل میچ جتوا سکتا ہے۔ ابرار کے پاس وہ کوالٹی اور ورائٹی ہے جس کا 20-25 فیصد بھی شاداب خان یا محمد نواز کے پاس نہیں۔ اس کے پاس کیرم گیند ہے، فنگر لیگ بریک، مسٹری گگلی، ٹاپ اسپن اور پیس ویری ایشن۔ نواز تو سیدھی سادی گیندیں کرانے والا آرتھوڈکس اسپنر ہے، شاداب کے پاس لیگ بریک اور گگلی ہے، مگر اب 10 سال کا بچہ بھی اس کی گگلی ریڈ کر لیتا ہے جبکہ شاداب رہی سہی کسر فُل ٹاس گیند پر چھکے کھا کر پوری کر دیتا ہے۔

ٹیم کو سپیشلسٹ کھلاڑی ہی جتوایا کرتے ہیں

یہ سب سے اہم نکتہ ہے۔ ہر ٹیم کو اسپیشلسٹ بلے باز اور اسپیشلسٹ باؤلرز چاہیے ہوتے ہیں۔ یہی اصل فرق ڈالتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر ٹائپ کھلاڑی آل راؤنڈر کے نام پر کھلا دیے جائیں۔ عمران خان نے ایک بار ایسے کھلاڑیوں کے بارے میں کہا کہ لاہوری کرکٹ میں انہیں ’ریلوکٹا‘ کہا جاتا تھا یعنی ٹوٹے پھوٹے، کچے پکے آل راونڈر۔

  پاکستانی ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نجانے کیوں آل راؤنڈرز کا اتنا شیدائی ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا ورنہ ٹیم میں 8-10 آل راؤنڈر ہی کھلا دے۔ یہ سادہ بات سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں اس وقت ایک بھی جینوئن آل راؤنڈر موجود نہیں ہے۔ وائٹ بال آل راؤنڈر آسٹریلیا کا میکسویل ، انڈیا کا ہاردک پانڈیا جیسے کھلاڑی ہوتے ہیں۔ ویسے عمران خان، آئن بوتھم، کپیل دیو، رچرڈ ہیڈلی ہی جینوئن آل راؤنڈرز تھے، بعد میں جنوبی افریقہ کا جیک کیلس آیا جو عظیم آل راؤنڈر تھا۔ وہ بطور بلے باز بھی کسی ٹیم میں کھیل سکتا تھا اور بطور باؤلر بھی۔ یہی ایک جینوئن آل راؤنڈر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

دوسرے آپشن میں آل راؤنڈر وہ ہو جو اپنی بیٹنگ یا باؤلنگ میں سے کم از کم ایک شعبے میں اسپیشلسٹ کھلاڑی ہو اور اس حیثیت میں ٹیم میں شامل ہوسکے۔  جیسے وسیم اکرم تھے، وہ بطور باؤلر دنیا کی کسی بھی ٹیم میں شامل ہو سکتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اگر کچھ رنز کر لیتے تو وہ بونس ہوتا۔ اب شاداب خان کا موازنہ اگر بطور باؤلر ابرار، عثمان طارق یا چلو سفیان مقیم ہی سے کیا جائے تو شاداب لازمی باہر ہو جائے گا۔ شاداب بطور بلے باز بھی ظاہر ہے ٹیم میں نہیں جگہ پا سکتا۔ نواز کا تو مزید برا حال ہے۔ انہیں کھلانے سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی کوالٹی ٹیم کے خلاف سخت میچ میں یہ نام نہاد آل راؤنڈرز ایکسپوز ہوجاتے ہیں۔ وہاں پھر اسپیشلسٹ کھلاڑی ہی جتوا سکتے ہیں۔

سادہ اصول ہے کہ وائٹ بال میں 11 کھلاڑیوں میں سے 6 اسپیشلسٹ بلے باز ہوں، ایک ان میں سے وکٹ کیپر ہو جبکہ 5 اسپیشلسٹ باؤلرز ہوں، ان میں سے 1-2 مناسب بیٹنگ کر سکتے ہوں تو گڈ ہے، مگر ان کا اسپیشلسٹ باؤلرز ہونا لازمی ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ بیٹنگ کمزور اور ناقابل اعتبار ہے تو نمبر 7-8-9 پر آل راؤنڈرز کھلا لیے جاتے ہیں۔ عمران خان ایسے میں یہ کہا کرتے تھے کہ اگر 6 اسپیشلسٹ بلے باز ناکام ہوگئے تو پھر یقین کریں کہ اتنے پریشر میں نمبر 7-8 والے ادھورے آل راؤنڈرز بھی کچھ نہیں کر سکیں گے۔ ویسے یہ بات بے شمار بار درست ہوتے ہم نے خود دیکھی ہے۔

  بعض کھلاڑی اپنے اصل کردار کو بھول کر دوسری حیثیت میں کچھ پرفارم کر دیتے ہیں، مگر ان کی بھی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ اگلے روز محمد حفیظ نے یہی بات کی کہ وہ آل راؤنڈر تھے، مگر ٹیم مینجمنٹ نے انہیں کہا تھا کہ ان کا اصل کردار بطور بلے باز رنز کرنا ہے وہ اگر نہیں کر پایا تو باؤلنگ میں وکٹیں لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔

  یہی انگلش ٹیم میں فلنٹوف کے ساتھ کیا گیا۔ فلنٹوف باؤلنگ اچھی نہیں کر رہا تھا مگر بیٹنگ میں وہ ففٹیز کر رہا تھا، اسے کوچ نے کہا کہ تمہارا اصل کردار بطور باؤلر کھیلنا ہے۔ ففٹی بے کار ہے، اگر باؤلنگ میں وکٹ نہیں ملتی۔ یہی بات شاداب اور نواز کو سمجھانی چاہیے اور ان کی پرفارمنس بطور باؤلر ہی دیکھی جائے، وہ بھی اچھی ٹیموں کے خلاف۔ نمیبیا کے خلاف پرفارمنس کا کیا فائدہ؟

کپتان لیڈ پرفارمنس سے کرے،جلدی آنے سے نہیں

عمران خان ایک بات کے شدت سے قائل تھے کہ کپتان کو فرنٹ سے لیڈ کرنا چاہیے۔ وہ ٹاپ پرفارمر ہو، تب ہی اس کی ٹیم میں عزت اور وقار قائم رہتا ہے۔ 92 ورلڈ کپ میں آسٹریلوی کپتان ایلن بارڈر بری فارم میں تھا، وہ اپنے روٹین نمبر 4 کی جگہ نمبر 6-7 پر کھیلتا تھا، اپنے سے پہلے دوسروں کو بھیج دیتا۔ عمران خان نے تب یہ طنز کیا کہ کرکٹ میں کپتان کے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں۔ اسے ہر حال میں فرنٹ سے لیڈ کرنا چاہیے۔ عمران خان نے 92 ورلڈ کپ میں یہ ثابت بھی کر دیا، جب مشکل ترین سیمی فائنل اور فائنل میں وہ ون ڈاؤن بیٹنگ کرنے آئے، جبکہ پہلے کبھی اس نمبر پر نہیں کھیلا تھا اوریہ آسٹریلیا کی تیز باؤنسنگ پچز تھیں۔ عمران خان نے دونوں میچز میں ففٹیز بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں:فاطمہ بھٹو کس قیامت سے گزریں؟

سلمان آغا، عمران خان کی نقل میں ون ڈاؤن تو کھیلنے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں مگر اپنی بیٹنگ تکنیک بہتر نہیں کی، اپنے کھیل کو امپروو نہیں کیا۔ فرنٹ سے لیڈ ون ڈاؤن آنے سے نہیں ہوتا بلکہ ٹاپ پرفارمر بھی بننا پڑتا ہے۔ جیسے سلمان آغا کو انڈیا کے خلاف میچ میں پچ کو دیکھتے ہوئے سنگلز ڈبلز بنا کر وکٹ پر ٹھہرنا اور پارٹنر شپ بنانا چاہیے تھی۔ یہی کام انڈین کپتان سوریا کمار یادو نے کیا، حالانکہ وہ بہت تیز کھیلنے والا ہٹر ہے۔ انگلینڈ کے خلاف کپتان بروک نے یہی کیا، اس نے اپنا بیٹنگ نمبر تبدیل کیا، اوپر آ کر کھیلا اور سنچری بنا کر میچ جتوا دیا۔ سلمان آغا اسی میچ میں ون ڈاؤن گیا، سوچے سمجھے بغیر ایک احمقانہ شاٹ کھیلا اور وکٹ تھرو کر کے واپس آ گیا۔ ٹیم کو فرنٹ سے لیڈ کرنا یہ نہیں ہوتا۔

 کاش پاکستان کوچ مائیک ہیسن، کپتان سلمان آغا نے عمران خان سے کچھ سیکھا ہوتا، انہیں اپلائی کرتے تو پاکستان ٹیم کا یہ حشر نہیں ہونا تھا، یہ شرمندگی اور ندامت بھی نہ اٹھانا پڑتی۔ افسوس، صد افسوس۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟

روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان