وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک افغان سرحد پر طالبان کی جارحیت کے جواب میں مسلح افواج کی بھرپور کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قیادت نے واضح کیا ہے کہ وطن کی سرحدوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم اور صدرِ مملکت نے عوام کو یقین دلایا کہ افواج پاکستان ہر خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور پوری قوم اپنے بہادر فوجیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
دفاع وطن ہر حال میں ترجیح، وزیراعظم کا پیغام
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی افواج ملکی امن اور تحفظ پر کسی بھی صورت آنچ نہیں آنے دیں گی اور ہر جارحانہ عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہیں۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعلیٰ تربیت اور مؤثر دفاعی حکمت عملی کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کو فروغ دیتا رہا ہے، لیکن ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، اور افواجِ پاکستان ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔ پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے، صدرِ مملکت کا پیغام
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی قوم اور مسلح افواج وطن کی سالمیت اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن، استحکام اور علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دباؤ یا دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔
صدر نے کہا کہ افواج پاکستان کی جوابی صلاحیت ہمہ گیر، بروقت اور فیصلہ کن ہے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بھرپور استعداد رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان تصادم نہیں چاہتا، لیکن اگر کسی نے ملک کے امن کو کمزوری سمجھا تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔

صدر زرداری نے افغان طالبان رجیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سال سے یہ گروہ ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ پاکستان نے برادر ممالک کی معاونت سے اسے راہِ اعتدال پر لانے کی کوشش کی، مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو ذمہ دار عناصر کو رسائی سے باہر کوئی نہیں ہوگا۔














