بنگلہ دیش میں جولائی تحریک کے دوران نوجوان ابوزر شیخ کے قتل کے مقدمے میں پولیس کی انسداد دہشت گردی یونٹ نے معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ سمیت 25 افراد کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔ حکام کے مطابق بیشتر ملزمان مفرور ہیں اور ان کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حسینہ واجد کی حوالگی سے متعلق بھارت نے ابھی تک جواب کوئی نہیں دیا، بنگلہ دیشی مشیر خارجہ
پولیس کی انسداد دہشت گردی یونٹ نے گلشن میں 24 سالہ ابوزر شیخ کے قتل سے متعلق کیس میں 25 افراد کو نامزد کرتے ہوئے چارج شیٹ جمع کرا دی ہے۔ اس فہرست میں معزول وزیر اعظم حسینہ واجد بھی شامل ہیں۔
تحقیقاتی افسر سب انسپکٹر اسرائیل حسین نے 18 فروری کو چارج شیٹ جمع کرائی، جب کہ پراسیکیوشن ڈویژن کے ایس آئی مختار حسین نے جمعے کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کی۔ حکام کے مطابق شیخ حسینہ سمیت 22 ملزمان تاحال مفرور ہیں، اس لیے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔

چارج شیٹ میں سابق وزرا عبدالقادر، اسد الزمان خان کمال، جہانگیر کبیر نانک اور محمد اے عرفات سمیت دیگر شخصیات کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سابق رکن پارلیمنٹ مرزا اعظم اور سابق جج شمس الدین چوہدری مانک کا نام بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد نے سیاست سے توبہ کرلی، ’عوامی لیگ قائم رہے گی‘، بیٹے کا اعلان
مقدمے کے بیان کے مطابق 19 جولائی 2024 کی شام جولائی تحریک کے دوران طلبہ اور شہریوں کا ایک جلوس گلشن میں پرگتی سرانی پر واقع باریدھارا جنرل اسپتال کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ مقامی عوامی لیگ اور جوبو لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے ابوزر شیخ شدید زخمی ہو گئے۔
انہیں ابتدائی طور پر ایور کیئر اسپتال ڈھاکا منتقل کیا گیا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے ڈھاکا میٹروپولیٹن اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ آٹھ روز تک زیر علاج رہنے کے بعد 27 جولائی کو دم توڑ گئے۔

واقعے کے بعد مقتول کی والدہ چھوبی خاتون نے 16 نومبر 2024 کو گلشن تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ مقدمے کی باقاعدہ سماعت اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی آئندہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں آگے بڑھے گی۔













