کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے) کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر 129 میڈیا کارکن جان بحق ہوئے، جو ریکارڈ تعداد ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے 2 تہائی ہلاکتیں اسرائیل کی کارروائیوں میں ہوئی ہیں، جس سے غزہ میں تنازعہ صحافیوں کے لیے سب سے مہلک ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ، اسرائیلی فضائی حملے میں فری لانسر سمیت 3 صحافی جاں بحق
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں اسرائیلی فائرنگ میں 86 صحافی ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر فلسطینی تھے جو غزہ سے رپورٹنگ کررہے تھے۔ سب سے مہلک واقعہ یمن میں پیش آیا، جہاں 2 اخبارات کے دفاتر پر فضائی حملوں میں 31 صحافی ہلاک ہوئے۔
ہدف بنا کر قتل کی زیادہ تعداد
سی پی جے نے 47 ہلاکتوں کو ہدف بنا کر قتل قرار دیا، جو ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔ ان میں سے 81 فیصد ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کیسز میں شفاف تحقیقات نہ ہونے کے برابر ہیں اور کسی کو بھی جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
اسرائیل کا موقف
اسرائیلی فوج نے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جان بوجھ کر صحافیوں یا ان کے اہلخانہ کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ فوج کا کہنا ہے کہ رپورٹ عام الزامات، غیر مصدقہ ڈیٹا اور پہلے سے طے شدہ نتائج پر مبنی ہے، اور جنگ کی پیچیدگی یا غیر جنگجو افراد کو نقصان سے بچانے کی کوششوں کو نظر انداز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے جرائم پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
اسرائیلی کارروائیوں کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے گزشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں “نسلی صفائی” کے خدشات ظاہر کیے اور کہا کہ شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے اقدامات فلسطینیوں کو مستقل طور پر بے دخل کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2023 میں غزہ میں حملے شروع کیے، جس کا آغاز حماس کی کارروائی سے ہوا تھا۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک جنگ میں 72,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔














