ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے فضائی آپریشن کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث بنگلہ دیش اور متعدد خلیجی ممالک کے درمیان پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔
اس صورتحال کے نتیجے میں ہزاروں مسافر ڈھاکا اور خطے کے مختلف ہوائی اڈوں پر پھنس گئے ہیں۔ حکام کے مطابق حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشرقِ وسطیٰ جانے اور وہاں سے آنے والی پروازیں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایران پر حملہ غیرضروری اور خطرناک، کانگریس اپنے اختیار سے ٹرمپ کو روکے، کملا ہیرس
سرکاری فضائی کمپنی بیمن بنگلہ دیش ایئرلائنز نے دمام، جدہ، مدینہ، ریاض، شارجہ، ابو ظہبی، دبئی اور کویت کے لیے اپنی سروسز اگلے حکم تک معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈھاکہ اور خلیجی شہروں کے درمیان پروازیں چلانے والی کئی غیر ملکی ایئرلائنز نے بھی آپریشن روک دیا ہے۔
وزیر کی ایئرپورٹ آمد، مسافروں کو سہولت کی ہدایت
بنگلہ دیش کی وزیر برائے شہری ہوابازی و سیاحت افروزہ خان (ریتا) نے ہفتے کی شام ڈھاکا ایئرپورٹ کا دورہ کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ پھنسے ہوئے مسافروں کے لیے رہائش اور کھانے کا بندوبست یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر وزارت، قومی ایئرلائن اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
کرکٹر مشفیق الرحیم بھی متاثرین میں شامل
بنگلہ دیشی قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر مشفیق الرحیم بھی متاثرہ مسافروں میں شامل ہیں، جو عمرہ کی ادائیگی کے بعد جدہ سے دبئی جا رہے تھے تاہم کشیدگی کے باعث ان کی پرواز واپس لوٹ آئی۔
حکام کے مطابق بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت کئی ممالک نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فضائی حدود محفوظ قرار دیے جانے کے بعد مرحلہ وار پروازیں بحال کی جائیں گی۔













