ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید، ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پہلے بیان میں کہاکہ وہ انتقام کو ایران کا قانونی اور اخلاقی حق سمجھتے ہیں اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ تصور کیا جانا چاہیے۔
دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تعزیتی بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کو عزم و استقلال کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ وہ گہری بصیرت اور راہِ حق پر ثابت قدمی کی نمایاں مثال تھے۔ عباس عراقچی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای اپنے پیچھے عزت، حکمت اور استقامت کا ایک ایسا ورثہ چھوڑ گئے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے اس سانحے کو بڑا قومی نقصان اور دل کو جھنجھوڑ دینے والا غم قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیاکہ جس مشن اور پرچم کو بلند کیا گیا تھا، اسے مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی پر ایک نظر
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں، جس کے بعد متبادل قیادت کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔














