بنگلہ دیش نے امریکا پر زور دیا ہے کہ ایران سے متعلق جاری بحران کو جلد از جلد مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو اس کے معاشی اثرات ترقی پذیر ممالک کے لیے نہایت سنگین ہوں گے۔
یہ مطالبہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور پال کپور سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: خاتون ٹیچر کا یونیورسٹی میں قتل
پال کپور اس وقت 3 روزہ سرکاری دورے پر ڈھاکہ میں موجود ہیں۔ بدھ کی دوپہر وزارتِ خارجہ میں ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران سے متعلق بحران کو بات چیت اور سفارتی رابطوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا خاتمہ کسی ایک ملک کے ہاتھ میں نہیں، تاہم عالمی طاقتوں کو کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تنازع طول پکڑتا ہے تو اس کے معاشی اثرات بنگلہ دیش جیسے ممالک کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوگا، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات میں اضافے کے باعث۔ اس سے قبل پال کپور نے وزیر مملکت برائے خارجہ شمعہ عبید اسلام سے بھی ملاقات کی۔

اپنے دورے کے دوران امریکی معاون وزیر تجارت کے وزیر خندکر عبدالمقتدر اور توانائی و معدنی وسائل کے وزیر اقبال حسن محمود سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ کاروباری شخصیات سے تبادلہ خیال اور اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شرکت بھی کریں گے۔
دریں اثنا وزیر خارجہ نے امریکا کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے کہا کہ یہ کسی عجلت میں یا انتخابات سے قبل جلد بازی میں طے نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے پہلے مختلف سیاسی جماعتوں، جن میں نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش بھی شامل ہیں، سے مشاورت کی گئی تھی۔
بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امن و استحکام نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔













