وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔
ایک حالیہ عدالتی فیصلے کے مطابق نہ ہی اصلاحی نظرثانی کے نام پر ایسے فیصلوں کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس، وفاقی حکومت نے آئینی عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
ان کا مؤقف تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار نہیں دیا گیا۔
عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا اور قانونی تنازعات کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام ہونا ضروری ہے۔
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: آئین کی تشریح شفافیت، آزادی اور دیانت کے ساتھ کی جائے گی، چیف جسٹس آئینی عدالت امین الدین
عدالت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی کا اختیار محدود ہے اور جب سپریم کورٹ کسی مقدمے میں نظرثانی درخواست مسترد کر دے تو اس کے بعد معاملہ ختم تصور کیا جاتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے مزید قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت دیا گیا غیر معمولی اختیار صرف عوامی مفاد کے معاملات کے لیے ہے۔
’اسے انفرادی یا نجی نوعیت کی شکایات کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔‘
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کے لیے درخواست دائر
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ زیرِ سماعت معاملہ عوامی اہمیت کا نہیں بلکہ ایک نجی تنازع ہے، جو درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا، تاہم 2022 میں 2 رکنی بینچ نے اس فیصلے کو تبدیل کر دیا۔
اس بنیاد پر انہوں نے آئینی عدالت سے مداخلت کی استدعا کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں کے خلاف متوازی فورم کے طور پر کام نہیں کر سکتی۔













