بنگلہ دیش کی دارالحکومت ڈھاکہ میں ہفتے کے روز ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشات کے باعث پمپوں پر شہریوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عوام میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تھی۔ کئی فیول اسٹیشنز پر اسٹاک ختم ہونے کی وجہ سے گاڑی مالکان نے ایندھن ذخیرہ کرنے کی کوشش کی، جس سے ٹریفک میں بھی مشکلات پیدا ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ میں فضائی بحران کے باعث بنگلہ دیش میں بین الاقوامی پروازیں متاثر
پمپ مالکان نے بتایا کہ سرکاری تعطیل کے دوران ڈپوز سے ایندھن کی سپلائی بند رہنے کے باعث کئی اسٹیشنز پر وقتی قلت دیکھی گئی۔ صبح سے ہی مختلف علاقوں میں کار اور موٹر سائیکل ڈرائیور ایندھن کے لیے پہنچ گئے، اور کچھ اسٹیشنز نے دوپہر سے پہلے ہی فروخت روک دی۔ شاہباغ، اسد گیٹ، پارلیمنٹ کے نزدیک اور مالی باغ سمیت اہم سڑکوں پر لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔
بنگلہ دیش پیٹرول پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے مطابق گزشتہ 2 دنوں میں پینک خریداری کی وجہ سے اسٹاک تیزی سے ختم ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے صارفین افواہوں کی بنیاد پر معمول سے زیادہ ایندھن خرید رہے تھے، جبکہ جمعہ و ہفتہ کے تعطیلات کے باعث سپلائی ٹرک بھی نہیں چلتے۔

حکومت نے ایندھن کی کمی کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایندھن کے ذخائر کافی ہیں اور بعض اسٹیشنز پر قلت محض وقتی تھی۔ وزیر برائے پاور اور انرجی اقبال حسن محمود نے وزیراعظم طارق رحمان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مارچ 9 کو دو اضافی فیول جہاز پہنچیں گے اور قومی سپلائی میں کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش عالمی برادری سے مضبوط تعلقات کا خواہاں، وزیر اعظم طارق رحمان
بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن نے بھی تصدیق کی کہ مجموعی ایندھن کی مقدار اور سپلائی معمول کے مطابق ہے، اور مسئلہ پینک خریداری کی وجہ سے پیدا ہوا، کسی حقیقی قلت کی وجہ سے نہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری طور پر پمپوں پر رش نہ کریں، اور یقین دہانی کرائی کہ ایندھن کی تقسیم معمول کے مطابق جاری رہے گی۔












