کراچی سے تعلق رکھنے والے عبدالباسط جواد نے عید کی چھٹیوں میں اپنی فیملی کے ساتھ چند دن سکون سے گزارنے کے لیے تھائی لینڈ کا سفر پلان کیا تھا۔ کئی ہفتے پہلے انہوں نے 23 مارچ کی فلائٹ بک کروائی، ہوٹل ریزرو کرایا اور سفر کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے لیکن 2 دن قبل موصول ہونی والی ایک ای میل نے ان کے تمام منصوبے غیر یقینی میں ڈال دیے۔
ای میل ایئرلائن کی طرف سے تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ جنگی صورتحال کے باعث پروازوں کا شیڈول متاثر ہو رہا ہے، اس لیے وہ چاہیں تو اپنی فلائٹ اگلے مہینے کے لیے ری بک کر سکتے ہیں یا ٹکٹ کا ریفنڈ لے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مشرقِ وسطیٰ میں فضائی بحران کے باعث بنگلہ دیش میں بین الاقوامی پروازیں متاثر
یاد رہے کہ موجودہ صورتحال کا آغاز فروری کے آخر اور مارچ کے آغاز میں اس وقت ہوا جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کئی ممالک نے اپنے فضائی راستوں پر پابندیاں یا محدودیاں عائد کرنا شروع کر دیں۔
بحران کے نتیجے میں پاکستان سمیت خطے کے متعدد ممالک سے آنے اور جانے والی پروازیں متاثر ہوئیں اور بڑی تعداد میں فلائٹس منسوخ ہونا شروع ہو گئیں۔ حکام کے مطابق صرف چند دنوں کے اندر پاکستان کے مختلف ایئرپورٹس سے سینکڑوں بین الاقوامی اور مقامی پروازیں منسوخ ہوئیں جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے اور سفری نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیے: فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے بعد امارات ایئرلائنز کا محدود پروازوں کا اعلان
عبدالباسط جواد کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ائیر لائن کی جانب سے کی گئی ای میل بالکل کو ہضم کرنا بالکل بھی آسان نہیں تھا۔ کیونکہ وہ تمام تر پلاننگ کر چکے تھے۔ وہاں رہنے کے اخراجات سے لے کر گھومنے تک تمام چیزیں ان کی طرف سے طے شدہ تھیں۔ اور وزٹ ویزہ کی فیس الگ سے تھی۔
کہتے ہیں کہ جب انہیں ای میل موصول ہوئی تو ان کے تو ہوش اڑ گئے کہ ان یہ ہوٹل اور دیگر چیزوں کے لیے لگائے گئے پیسے کا کیا کریں گے۔
‘فلائٹ کا ریفنڈ تو مل جائے گا، لیکن ہوٹل کی بکنگ نان ریفنڈایبل ہے۔ اگر میں سفر منسوخ کرتا ہوں تو سارا پیسہ ضائع ہو جائے گا، اور اگر تاریخ تبدیل کرتا ہوں تو پورا پلان بدل جاتا ہے۔ ور مجھے دوبارہ سے ہوٹل ریزرویشن کروانا ہوں گی۔’
ان کے مطابق صورتحال مزید الجھن کا شکار اس لیے بھی ہے کہ ان کی فلائٹ شیڈول میں اب بھی دکھائی دے رہی ہے، مگر موجودہ پابندیوں اور محدود آپریشن کے باعث اس کے چلنے یا منسوخ ہونے کے بارے میں یقین نہیں۔
باسط کہتے ہیں کہ انہوں نے ہوٹل مینجمنٹ کو ای میل کر کے تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ اگر ہوٹل ان کو کسی قسم کی سہولت دیتا ہے کہ وہ اپنی ریزرویشن کی تاریخیں بدل سکیں۔ تو ان کے لیے بہت آسانی ہو جائے گی۔ ورنہ بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ میں جنگ کے سبب فضائی بحران، 5 دن میں 20 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ
‘ہر روز فلائٹ کا اسٹیٹس چیک کرتا ہوں۔ امید یہی ہے کہ حالات بہتر ہوں اور سفر ہو جائے، ورنہ نقصان تو ہو ہی جائے گا۔’
عبدالباسط کی مشکل صرف ان تک ہی نہیں بلکہ کئیں پاکستانی مسافروں کی عکاسی کرتی ہے۔ جو حالیہ کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی بین الاقوامی پروازیں منسوخ یا محدود کر دی گئی ہیں جبکہ دوبارہ بکنگ کرانے کی صورت میں ٹکٹ کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اسامہ افتخار کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، تاہم ان کی مشکل قدرے مختلف ہے۔ اسامہ نے کینیڈا جانے کے لیے اپنی فلائٹ پہلے سے بک کر رکھی تھی، مگر بدلتی صورتحال کے باعث ایئرلائن نے ان کی پرواز منسوخ کر دی۔
اسامہ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے نئی تاریخ کے لیے دوبارہ ٹکٹ بک کروانے کی کوشش کی تو انہیں معلوم ہوا کہ وہی ٹکٹ اب تقریباً 3 گنا مہنگا ہو چکا ہے۔
وہ کہتے ہیں، ‘یہ میری غلطی نہیں کہ فلائٹ کینسل ہوئی۔ ایئرلائن نے خود پرواز منسوخ کی ہے، لیکن اب جب میں دوبارہ بکنگ کروا رہا ہوں تو مجھے 3 گنا زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔’
ان کے مطابق یہ صورتحال مسافروں کے لیے نہ صرف مالی بوجھ بن رہی ہے بلکہ غیر یقینی بھی پیدا کر رہی ہے کہ آیا سفر ممکن بھی ہو سکے گا یا نہیں۔
سفری ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں پروازوں کی کمی اور بڑھتی طلب کے باعث ٹکٹوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھ جاتی ہیں۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ٹریول ایجنٹ احمد فرہاد کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اکثر لوگ اپنی ناراضی اور غصہ ایجنٹس پر نکال رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں فیصلے ایئرلائنز کرتی ہیں۔
احمد فرہاد کے مطابق جب پروازیں اچانک منسوخ ہو جاتی ہیں یا شیڈول تبدیل ہوتا ہے تو مسافر سب سے پہلے ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کرتے ہیں اور اکثر یہی سمجھتے ہیں کہ شاید ایجنٹ نے ہی کوئی غلطی کی ہے۔
‘لوگ ہمیں اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ فلائٹس ایئرلائنز کی طرف سے کینسل ہوتی ہیں اور پالیسی بھی وہی طے کرتی ہیں۔ اگر ایئرلائنز ہی مکمل تعاون نہیں کر رہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟’
یہ بھی پڑھیے: سعودی ایئرلائن کا دبئی کے لیے پروازیں جزوی طور پر بحال کرنے کا اعلان
ان کے مطابق ٹریول ایجنٹس اس وقت مسافروں اور ایئرلائنز کے درمیان ایک مشکل کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک طرف مسافر فوری حل چاہتے ہیں اور دوسری طرف ایئرلائنز کی محدود پالیسیوں کے باعث ہر مسئلے کا فوری حل ممکن نہیں ہوتا۔
احمد فرہاد کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایجنٹس کو مسلسل مسافروں کی کالز، شکایات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
‘ہم دن بھر مسافروں کے کیسز ایئرلائنز کے ساتھ اٹھاتے ہیں، ری بکنگ کی درخواستیں کرتے ہیں اور ریفنڈ کے لیے فالو اپ کرتے ہیں، لیکن کئی بار ہمیں بھی واضح جواب نہیں ملتا۔’
ان کے مطابق ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ بعض ائیرلائن کی جب فلائٹ منسوخ ہونے کے بعد نئی ٹکٹ کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ ایسے میں مسافر سمجھتے ہیں کہ شاید ایجنٹ اضافی رقم لے رہا ہے، حالانکہ قیمتیں براہِ راست ایئرلائن کے سسٹم میں بڑھ جاتی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ٹریول انڈسٹری کے لوگ بھی اس صورتحال سے مالی اور پیشہ ورانہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ ان کا کام ہی سفر کو آسان بنانا ہوتا ہے، مگر موجودہ غیر یقینی حالات نے اس عمل کو بہت پیچیدہ بنا دیا ہے۔
احمد فرہاد کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایئرلائنز مسافروں اور ایجنٹس دونوں کے ساتھ زیادہ لچکدار اور تعاون پر مبنی پالیسی اپنائیں تاکہ مسافروں کو مالی نقصان اور ذہنی دباؤ سے بچایا جا سکے۔














