وفاقی آئینی عدالت میں تہرے قتل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ملزمان کے حوالے سے اہم ریمارکس دیے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل گبرئیل فرانسیس نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے ڈی ایس پی سراج الدین لاشاری کی نئی رپورٹ کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کچھ ملزمان کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی آئینی عدالت نے پہلی پوزیشن ہولڈرخاتون کی تقرری کو قانونی قرار دے دیا
اس موقع پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں اس نوعیت کے کیسز کی تحقیقات اکثر سراج الدین لاشاری سے ہی کرائی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے کی ایف آئی آر میں تمام 13 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ 3 افراد کے قتل کے ملزمان کو عدالت تحفظ فراہم نہیں کر سکتی، جبکہ اس کیس میں بعض ملزمان مفرور بھی ہیں۔
وکیل گبرئیل فرانسیس نے عدالت کو بتایا کہ ان کے تینوں مؤکل اس وقت جیل میں ہیں۔ اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ٹرائل کہاں تک پہنچا ہے اور کیا عدالت نے ملزمان پر چارج شیٹ عائد کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج کردیا گیا
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر عدالت مہلت دے تو وہ چارج شیٹ، چالان اور دیگر متعلقہ دستاویزات پیش کر سکتے ہیں۔
عدالت نے وکیل کو آئندہ سماعت پر متعلقہ عدالتی ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔














