سعودی عرب میں آج 11 مارچ کو یومِ پرچم قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد سعودی ریاست کی تاریخی بنیادوں، قومی تشخص اور اس پرچم کی علامتی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے جو مملکت کی اسلامی شناخت اور ریاستی وقار کی نمائندگی کرتا ہے۔
سعودی قیادت کی جانب سے اس دن کو سرکاری طور پر منانے کا اعلان اس لیے کیا گیا تاکہ عوام کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ سعودی پرچم صرف ایک قومی علامت نہیں بلکہ اس ریاست کی فکری اور دینی بنیادوں کا اظہار بھی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے اہم ملاقات
سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مارچ 2023 میں شاہی فرمان کے ذریعے 11 مارچ کو یومِ پرچم قرار دیا تھا۔
اس دن کے انتخاب کی تاریخی بنیاد بھی موجود ہے۔ مؤرخین کے مطابق پہلی سعودی ریاست کے قیام کے وقت یعنی سنہ 1727 میں اسی نوعیت کے سبز پرچم کو اپنایا گیا تھا جس پر کلمہ طیبہ درج تھا۔ یہی پرچم بعد میں سعودی ریاست کے تسلسل اور اسلامی تشخص کی علامت بنتا گیا۔
سعودی پرچم کا سبز رنگ اسلام، ترقی اور خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ اس پر درج کلمہ طیبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت کی بنیاد اسلامی عقیدے یعنی توحید پر قائم ہے۔
کلمے کے نیچے بنی تلوار انصاف، قوت اور ریاستی خودمختاری کی علامت ہے۔ اسی وجہ سے سعودی پرچم کو دیگر ممالک کے پرچموں کی طرح نصف سرنگوں نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اسے زمین پر گرنے دیا جاتا ہے، کیونکہ اس پر اسلامی عقیدے کی مقدس عبارت درج ہے۔
یوم پرچم کے موقع پر سعودی عرب کے مختلف شہروں میں سرکاری عمارتوں، شاہراہوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر قومی پرچم نمایاں طور پر آویزاں کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ مختلف ثقافتی، تعلیمی اور قومی تقریبات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے جن کا مقصد نئی نسل کو ریاست کی تاریخ اور قومی علامات کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
سعودی ذرائع کے مطابق یہ دن صرف قومی علامت کی یاد منانے تک محدود نہیں بلکہ سعودی ریاست کے تین تاریخی ادوار یعنی پہلی، دوسری اور موجودہ سعودی ریاست کے تسلسل اور استحکام کی علامت بھی ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کے اہم تیل کے ذخیرے پر ڈرون اور میزائل حملے ناکام، فضائی دفاع نے تمام اہداف تباہ کر دیے
موجودہ سعودی ریاست 1932 میں بانی مملکت شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل سعود نے قائم کی، جس کے بعد سے یہ پرچم ریاستی شناخت کا مرکزی نشان بن گیا۔














