اسپین نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔
اس کی تصدیق بدھ کو جاری کیے گئے سرکاری گزٹ میں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا 200 ڈالر فی بیرل تیل خریدنے کے لیے تیار ہو جائے، ایران نے خبردار کردیا
اب تل ابیب میں اسپین کے سفارت خانے کی ذمہ داری ناظم الامور سنبھالیں گے۔
اسپین اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات 1986 میں قائم ہوئے تھے لیکن دونوں ممالک کے تعلقات میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ کشیدگی رہی ہے۔
اسپین کے غزہ صورتحال پر بھی تحفظات
اسپین نے خصوصاً غزہ میں جاری جنگ اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی سخت مخالفت کی ہے۔
مزید پڑھیے: ایران فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں شرکت نہیں کرے گا، ایرانی وزیر کھیل
گزشتہ روز اسپین کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ جنگ پر اختلاف کے باوجود اسپین اور امریکا کے تعلقات معمول کے مطابق برقرار ہیں حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی پابندیوں کی دھمکیاں دی تھیں۔
اسپین نے فوجی اڈوں کا استعمال بھی روکا
اس کے علاوہ اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز کی حکومت نے ایران کے خلاف کسی بھی جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مخالفت کی اور امریکی طیاروں کو جنوبی اسپین میں موجود مشترکہ فوجی اڈوں سے ایران کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا۔













