برطانیہ: سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا سخت انتباہ

جمعرات 12 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے میڈیا اور پرائیویسی ریگولیٹرز نے جمعرات کو بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا کہ وہ بچوں کو اپنی سروسز سے دور رکھنے کے لیے زیادہ مؤثر اقدامات کریں۔

ریگولیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ کمپنیاں اپنی کم از کم عمر کی پالیسی پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل منظور

حکومت بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی پر سخت پابندیوں پر غور کر رہی ہے، جس میں زیرِ بحث تجویز کے مطابق 16 سال سے کم عمر بچوں کو ان پلیٹ فارمز سے روکنے کی منصوبہ بندی شامل ہے، جو آسٹریلیا کے حالیہ اقدام سے مشابہت رکھتی ہے۔

برطانیہ کے ریگولیٹرز، اوفکام اور انفارمیشن کمشنر آفس نے کہا ہے کہ وہ الگوردمک فیڈز کی وجہ سے بچوں کو نقصان دہ یا نشہ آور مواد تک رسائی کے بڑھتے ہوئے خدشات سے پریشان ہیں۔

اوفکام کی چیف ایگزیکٹو میلینی ڈاؤز نے کہا کہ یہ آن لائن سروسز گھر کے ہر کونے میں معروف ہیں، لیکن وہ اپنے مصنوعات میں بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح نہیں دے رہی ہیں۔

’یہ رویہ اب فوراً تبدیل ہونا چاہیے، ورنہ اوفکام کارروائی کرے گا۔‘

اوفکام نے اپنی آن لائن سیفٹی ایکٹ کے نفاذ کے تازہ ترین مرحلے میں فیس بک اور انسٹاگرام، روبلاکس، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 اپریل تک یہ واضح کریں کہ وہ کس طرح عمر کی جانچ سخت کریں گے، بچوں سے اجنبیوں کے رابطے کو محدود کریں گے، فیڈز کو محفوظ بنائیں گے اور نئی پروڈکٹس پر کم عمر صارفین پر تجربات بند کریں گے۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا نابالغ بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا

آئی سی او نے بھی انہی پلیٹ فارمز کو ایک کھلے خط میں کہا کہ وہ ’جدید اور قابل عمل‘ عمر کی تصدیق کے آلات اپنائیں تاکہ 13 سال سے کم عمر بچے ان سروسز تک رسائی نہ حاصل کر سکیں جو ان کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں۔

آئی سی او کے چیف ایگزیکٹو پال آرنولڈ نے کہا ہے کہ اب جدید ٹیکنالوجی سب کی پہنچ میں ہے، لہٰذا کوئی عذر قابل قبول نہیں۔

میٹا کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی پہلے ہی اے آئی کی بنیاد پر عمر کی شناخت اور اندازہ لگانے کے آلات استعمال کرتی ہے اور نوعمر صارفین کو ایسے اکاؤنٹس میں رکھتی ہے جن میں حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈنمارک نے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی

ترجمان نے مزید کہا کہ عمر کی تصدیق ’ایپ اسٹور کی سطح پر مرکزی طور پر‘ ہونی چاہیے تاکہ خاندانوں کو کئی بار ذاتی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت نہ ہو۔

یوٹیوب کے ترجمان نے کہا کہ پلیٹ فارم عمر کے لحاظ سے مناسب تجربات فراہم کرتا ہے اور وہ اوفکام کے اس رویے پر حیران ہے کہ وہ ’رسک بیسڈ‘ طریقہ کار سے ہٹ گیا ہے، اور ریگولیٹر سے درخواست کی کہ وہ ان سروسز پر توجہ دے جو قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

روبلاکس، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجویز

اوفکام کمپنیوں کو ان کی عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کر سکتا ہے، جبکہ آئی سی او کمپنی کی سالانہ عالمی آمدنی کے 4 فیصد تک جرمانہ عائد کرسکتا ہے۔

پرائیویسی واچ ڈاگ نے گزشتہ ماہ ریڈاٹ پر تقریباً 14.5 ملین پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا تھا کیونکہ اس نے مؤثر عمر کی جانچ متعارف نہیں کروائی اور بچوں کے ڈیٹا کو غیر قانونی طور پر پراسیس کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی وزارتِ سیاحت کا مہمان نوازی مراکز اور ہوٹلوں کے معائنے تیز کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگی اسٹالز موجود ہیں

مشرق وسطیٰ کشیدگی: خطے میں ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ گئیں مگر پاکستان میں استحکام، وجوہات کیا ہیں؟

وی ایکسکلوسیو: نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے، خرم دستگیر

سینٹ پیٹرک ڈے، صدر مملکت آصف علی زرداری کی  آئرلینڈ کے عوام کو دلی مبارکباد

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگی اسٹالز موجود ہیں

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

ٹرمپ کا رونا دھونا شروع، پہلے بھڑکیں اب منتیں، نیتن یاہو ہلاک؟ جنید صفدر کا ہنی مون

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا