ڈیرہ اسماعیل خان جیسے روایتی اور کثیر الثقافتی شہر میں خواتین ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعیناتی ایک انقلابی قدم ہے۔ یہ نہ صرف صنفی دیواریں توڑنے کی علامت ہے بلکہ شہر کے نظم و ضبط میں ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش بھی ہے
ڈیرہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ سفید اور نیلی وردی میں ملبوس خواتین حوصلے اور خود اعتمادی کے ساتھ چوراہوں پر ٹریفک کنٹرول کرتی نظر آ رہی ہیں۔ وہ شہر جو اپنی روایات میں بے حد حساس رہا ہے، وہاں ان خواتین کا میدان میں اترنا اس بات کی دلیل ہے کہ “ہمت ہو تو منزل دور نہیں
شہریوں کی بڑی تعداد اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہی ہے۔ خواتین ڈرائیورز کے لیے بھی آسانی ہے کہ اب خواتین ڈرائیورز اور طالبات بلا جھجھک اپنی ٹریفک مسائل کے لیے ان اہلکاروں سے رجوع کر سکتی ہیں۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ خواتین اہلکاروں کی موجودگی سے ٹریفک کے دوران تلخ کلامی کے واقعات میں کمی آئے گی اور شائستگی بڑھے گی
ڈی آئی خان کی تنگ سڑکیں اور بے ہنگم رش سے نمٹنا کسی بھی نئے اہلکار کے لیے اعصاب شکن ہوتا ہے۔ یہ خواتین صرف ٹریفک کنٹرول نہیں کر رہیں، بلکہ یہ اس فرسودہ سوچ کو بھی راستہ دکھا رہی ہیں کہ کچھ کام صرف مردوں کے لیے مخصوص ہیں۔ ان کی کامیابی کا دارومدار جہاں ان کی اپنی محنت پر ہے، وہیں شہریوں کے تعاون اور محکمہ پولیس کی جانب سے فراہم کردہ تحفظ پر بھی ہے۔











