ہمارے ہاں اتنے زیادہ ایشوز ہوچکے ہیں، ہر روز کوئی نیا معاملہ سامنے آجاتا ہے، اوپر سے عالمی بحران بھی ساتھ ہی چل رہے ہیں کہ کئی بار ہم کسی ایشو پر لکھنے کا سوچتے ہیں مگر فوری نیا معاملہ آنے پر ادھر لکھ دیتے ہیں۔ تاہم بعض ایشوز ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں اَن نوٹس نہیں چھوڑنا چاہیے، ان پر اپنا اصولی موقف دینا ضروری ہوجاتا ہے۔
صحیفہ جبار خٹک معروف فیشن ماڈل اور اداکارہ ہیں، انہیں کئی ڈراموں سے شہرت ملی، سوشل میڈیا پر بھی وہ کھلے ڈلے، تیز دھار بیانات کے حوالے سے مشہور ہیں، کسی بھی معاملے میں کچھ بھی کہہ ڈالا۔ ہمارے فنکاروں کا یہ معاملہ بھی ہے کہ وہ خود کو سیلبریٹی سمجھتے ہوئے کچھ بھی کہہ دینا اپنا حق سمجھتی ہیں۔ انہیں شاید لگتا ہے کہ سورج انہی کے گرد گھومتا ہے اور دنیا کا محور بھی وہی ہیں، تو ہر ایک کو چاہیے کہ ان کی بات پر سر جھکا دے۔
صحیفہ جبار نے لاہور میں ایک فوڈ ریسٹورنٹ کھولا ہے، وہاں شاید پیزا وغیرہ ملتا ہے۔ کچھ دن قبل ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ اپنے کسی مینجر وغیرہ سے کہہ رہی ہیں کہ مجھے اپنے ریسٹورنٹ میں صرف پختون ملازم ہی چاہییں، میں پنجابی یا اردو اسپیکنگ ملازم نہیں رکھنا چاہتی، کیونکہ وہ کام نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ پختون محنتی ہوتے ہیں تو صرف انہیں ہی رکھوں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟
اس ویڈیو پر ظاہر ہے ری ایکشن آنا تھا، ایک بندہ لاہور میں، پنجاب کے دل میں ریسٹورنٹ کھولے اور پھر اس طرح کا توہین آمیز تبصرہ پنجابیوں کے حوالے سے کرے تو ظاہر ہے ہر ایک کو برا لگے گا۔ صحیفہ جبار کی خوش قسمتی کہ پہلے پاکستان افغان جھڑپیں شروع ہوئیں اور پھر ایران جنگ چھڑ گئی تو لوگوں کی توجہ ادھر چلی گئی۔ اس کے باوجود کچھ لوگوں نے صحیفہ جبار کے ریسٹورنٹ کے حوالے سے احتجاجاً گوگل پر منفی ریویوز دیے۔
میرے جیسے لوگوں نے تو کبھی ایسے ریویوز پر توجہ ہی نہیں دی، ہم تو کسی دوست کے کہنے پر ہی ٹرائی کرنے کہیں بھی چلے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان گوگل ریویوز پر توجہ دیتے ہیں اور شاید اس سے ریٹنگ پر بھی فرق پڑتا ہے اور ریچ بھی اوپر نیچے ہوتی ہے۔ وہ گوگل میپس میں بھی نیچے چلا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر کسی بھی پراڈکٹ یا ریسٹورنٹ وغیرہ کے اسٹار ساڑھے 3 یا 4 سے کم ہوں تو اس کی آمدنی میں 10-15 فی صد کا فرق لازمی پڑ جاتا ہے کیونکہ کچھ لوگ پھر اتنی کم شرح کو دیکھ کر وہاں جاتے ہی نہیں۔
صحیفہ جبار کو بھی ظاہر ہے اس پر پریشانی ہوئی۔ موصوفہ نے ایک اور ویڈیو بنا ڈالی جس میں وہ نہایت طیش میں ان لوگوں کو باتیں سنا رہی ہیں جنہوں نے منفی ریویوز دیے۔ صحیفہ جبار نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اس پر روایتی انداز میں عورت کارڈ کھیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ کسی عورت کو کامیاب ہوتے دیکھ ہی نہیں سکتے، وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ سامنے کی بات ہے کہ لوگوں کو عورت سے کیا مسئلہ ہوسکتا تھا، بلکہ ایک خوبصورت، معروف اداکارہ کے ریسٹورنٹ پر تو لوگ زیادہ آتے۔ البتہ ایک بدزبان، دریدہ دہن عورت جو نسل پرستانہ کمنٹس دے کر خوش ہے، اس کے خلاف ضرور ردعمل ہوا۔
دنیا بھر میں یہ دستور ہے کہ کسی قوم، نسل یا زبان بولنے والوں کے حوالے سے کیا گیا جنرلائزڈ منفی تبصرہ نسل پرستی (ریسسٹ بیانیہ)میں آتا ہے۔اس حوالے سے اب زیرو ٹالرنس ہوچکی ہے۔ بہت سخت ردعمل آتا ہے اور ایسا تبصرہ کرنے والی شخصیت کو عوام سے معافی مانگنا پڑتی ہے۔
2017میں معروف برطانوی ماڈل منرو برگ ڈورف نے ایک سوشل میڈیائی تبصرے میں ایک کمیونٹی کے خلاف سخت باتیں کہیں، اس کے تبصرے کو نسل پرستانہ کہا گیا، شدید ردعمل ہوا، کئی اشتہاری کمپنیوں نے اپنی کمپین سے اسے نکال باہر کیا اور اسے معافی مانگنا پڑ گئی، ا سکے باوجود اس کا کیریئر بہت ڈیمیج ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:ہم احتجاج میں اپنے ملک کو نقصان کیوں پہنچاتے ہیں؟
2023میں امریکا کی ایک آئی ٹی فرم آرتھر گرینڈ ٹیکنالوجیز اس وقت بڑے تنازع میں پھنس گئی جب ان کا ایک اشتہار پبلک ہوا، جس میں لکھا گیا تھا ’اونلی یو ایس بورن سٹیزن (وائٹ ) ہی اپلائی کریں‘ یعنی صرف وہ سفید فام لوگ اپلائی کریں جو پیدائشی طور پر امریکی شہری ہیں۔ اب یہ ایک آئی ٹی فرم ہے، ان کی مرضی کہ جس کو چاہے ملازم رکھے، ممکن ہے کسی مصلحت یا مجبوری کی بنا پر انہیں صرف سفید فام امریکی شہری چاہیے ہوں، مگر چونکہ یہ جملہ نسل پرستانہ تھا،اس سے دوسری کمیونیٹیز کی دل آزاری ہوئی، اس لیے شدید ردعمل آیا۔ کمپنی کو معافی مانگنا پڑی اور حکومتی اداروں کی تفتیش کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
نیویارک میں ایک میکسیکن گِرل ریسٹورنٹ پر باقاعدہ مقدمہ ہوا، انہیں بہت کچھ بھگتنا پڑا، صرف اس لیے کہ وہاں کام کرنے والے ایک افریقی ملازم کے ساتھ نسلی امتیاز اور ریسسزم کی شکایات آئی تھیں۔
ابھی حال ہی میں برطانیہ کی ایک ممتاز کاروباری شخصیت جم ریٹکلف نے بیان دیا کہ برطانیہ امیگرنٹس سے کالونائز ہو رہا ہے۔ اس بیان پر سیاستدانوں، میڈیا، فٹبال فینز سب نے اتنا شدید ردعمل دیا کہ بھائی صاحب کو باقاعدہ معافی مانگنا پڑی۔ چند سال قبل انڈیا میں بھی شدت پسند گروہ نے ممبئی میں آنے والے بہاری مزدوروں کے خلاف مہم چلائی کہ یہ مہاراشٹر کے مقامی لوگوں کی ملازمتوں کے لیے مسئلہ بن گئے ہیں وغیرہ۔ اس پر انڈیا میں بھی بہت ردعمل ہوا، میڈیا نے باقاعدہ کمپین چلائی اور آخرکار یہ بہاری مخلاف مہم چلانے والے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے۔
بات یہ ہے کہ دنیا بہت آگے جا چکی ہے، بعض حوالوں سے سماجی شعور بھی آگے بڑھا ہے۔ اب آپ کسی کے رنگ و نسل پر کوئی منفی تبصرہ نہیں کرسکتے۔ ہمارے ہاں چند سال پہلے تک کسی کی بھی جسامت، موٹاپے وغیرہ کا مذاق اڑانا عام تھا، دنیا بھر میں ایسا چلتا تھا۔ اب اسے باڈی شیمنگ کہہ کر سخت حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ کسی کے گنجے ہونے، کالے ہونے، موٹے ہونے، دبلے ہونے پر آپ پبلکلی جوک بھی نہیں کہہ سکتے۔ 2-3 سال قبل ول اسمتھ نے آسکر ایوارڈز کی تقریب میں اینکر کامیڈین کو تھپڑ رسید کر دیا تھا جب اس نے ول اسمتھ کی بیوی کے گنجے پن کا مذاق اڑایا۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو بھی یہ کہنے کا حق نہیں کہ فلاں زبان بولنے والے، فلاں قوم کے لوگ کام چور یا نالائق ہیں۔ آپ کروڑوں لوگوں کے بارے میں کوئی سوئپنگ اسٹیٹمنٹ کیسے دے سکتے ہیں؟ یہ ممکن ہی نہیں۔ ویسے یہ بات کہنا پرلے درجے کی بے وقوفی ہے کہ پنجابی یا اردو سپیکنگ لیبر محنتی یا ذمہ دار نہیں۔ لاہور ڈیڑھ پونے 2 کروڑ آبادی کا شہر ہے جبکہ کراچی کی آبادی 3 کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔ وہاں لاکھوں اردو اسپیکنگ کام کر رہے ہیں، شہر میں بے شمار دکانیں ، ریسٹورنٹ ہیں جو بے تحاشا چل رہے اور ہر جگہ اردو اسپیکنگ لیبر کام کر رہی ہے۔ یہی معاملہ لاہور کا ہے۔ لاہور کے بے شمار روایتی فوڈ اسپاٹ ہیں، بہت سے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس وغیرہ میں پنجابی اسٹاف کام کر رہا ہے اور نہایت محنت اور ذمہ داری سے وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پختون بھائی محنتی اور ذمہ دار ہیں۔ لاہور میں بے شمار پختون کام کر رہے ہیں۔ پہلے صرف کراچی کو غریب پرور شہر کہا جاتا تھا، اب لاہور بھی غریب پرور شہر ہے۔ یہاں پنجاب بھر سے اور پختونخوا سمیت باقی دونوں صوبوں سے بھی لوگ کام کاج کے لیے آ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ کراچی سے لاہور شفٹ ہو چکے ہیں۔آج کل لاہور کے ہر گلی کوچے میں کوئٹہ چائے اسٹالز مل جاتے ہیں۔ یہ کوئٹہ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں کے لوگ ہیں۔ جنوبی پنجاب سے بہت سے سرائیکی آج کل لاہور میں کام کر رہے ہیں۔ لاہور میں ملنے والی بریانی کی ایک پوری فوڈ چین ایسی ہے جس کا بیشتر اسٹاف مظفرگڑھ، ملتان، لودھراں وغیرہ کے سرائیکیوں پر مشتمل ہے۔ دوسرے لوگ بھی ہیں، مگر سرائیکی بھی ان میں شامل ہیں۔ یہ سب مل کر ایک حسین امتزاج بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے
صحیفہ جبار خٹک جیسی غیر ذمہ دار اور ایک گونہ متکبر خواتین لگتا ہے ان نزاکتوں اور حساسیت سے بالکل ناواقف ہیں۔ پڑھی لکھی ہونے کے باوجود انہیں اس بنیادی چیز کا علم نہیں کہ اپ جسے چاہے ملازمت پر رکھیں، مگر آپ کو بہرحال دوسروں کی دل آزاری کا حق نہیں۔ ان کی توہین اور تذلیل آپ نہیں کر سکتیں۔ یہ ستم ظریفی ہی ہوگی کہ لاہور میں کوئی ریسٹورنٹ کھولے اور پھر اعلان کرے کہ میں پنجابی اسٹاف نہیں رکھوں گی کہ وہ محنتی نہیں ہوتے۔ اس سے بڑھ کر لاہوریوں اور پنجاب والوں کی توہین کیا ہوگی؟
ان سطور کا مصنف یہ خاکسار عامر خاکوانی جو کہ ایک پشتون ہے، مگر اس کے ساتھ لاہور کا باسی، پنجاب کے ڈومیسائل کا حامل ہے، میں اس کی نہ صرف مذمت کرتا ہوں ۔ اس سے برأت کا اعلان کرتا ہوں بلکہ یہ مطالبہ بھی کرتا ہوں کہ صحیفہ جبار خٹک کو اپنے اس غیر ذمہ دارانہ، نسل پرستانہ کمنٹ کو واپس لے کر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔
بعض اوقات روانی میں، گفتگو کے بہاؤ میں کوئی غلط بات منہ سے نکل جاتی ہے۔ جب اس کا احساس ہو جائے تو بلا تاخیر معذرت کر لینی چاہیے۔ اگر صحیفہ جبار بھی یہ کہتیں،’میری بات غلط انداز میں نکل گئی، میں پنجابیوں سمیت تمام پاکستانیوں کا احترام کرتی ہوں‘۔تو یہ معاملہ ختم ہو جاتا۔
بات اب بھی ختم ہوسکتی ہے، ریکارڈ درست ہوسکتا ہے۔ اگر صحیفہ جبار اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کریں۔ ورنہ ان کے خلاف احتجاج کسی نہ کسی انداز میں چلتا رہے گا اور ممکن ہے ایک دن وہ بھی آ جائے کہ وہ آنسو بھری آواز میں ایک اور ویڈیو جاری کریں جس میں مردوں سے شکوہ ہو کہ انہوں نے ایک خاتون کا ریسٹورنٹ بند کروا کر ہی دم لیا۔
میری دلی خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو، مگر بہرحال اپنی غلطیوں کو سدھارنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔











