ڈھاکہ کی ایک عدالت نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبۂ سماجیات کے استاد کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔
یہ حکم ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ جیشیتا اسلام نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد جاری کیا۔ دفاعی وکیل غلام ربانی نے فیصلے کی تصدیق کی۔
جمال الدین کو بدھ کی صبح گلسٹن کے زیرو پوائنٹ علاقے سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ’بنگابندھو امن مارچ 2026‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک پروگرام میں شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، وزیر قانون
بعد ازاں پولیس نے انہیں پلٹن ماڈل تھانے میں درج انسدادِ دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار ظاہر کرتے ہوئے جیل بھیج دیا۔
ضمانت کی سماعت کے دوران وکلا خیر الدین سکندر اور غلام ربانی نے ان کی رہائی کے حق میں دلائل دیے، جبکہ ایڈیشنل پبلک پروسیکیوٹر محمد شمس الضحیٰ نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور ملزم کی جانب سے ڈویژن سہولت کی درخواست پر جیل حکام کو جیل قوانین کے مطابق ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش پارلیمنٹ: صدر کے خطاب پر اپوزیشن کا واک آؤٹ، وزیرِ داخلہ نے تضاد قرار دیدیا
جمال الدین کو عوامی لیگ کے حامی استاد کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہ یونیورسٹی کے بلیو پینل سے وابستہ ہیں۔
اس سے قبل دسمبر میں انہیں ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
حالیہ قومی انتخابات کے بعد 15 فروری کو دھان منڈی-32 میں ہونے والے ایک پروگرام کے دوران بھی انہیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی سربراہ کے خط پر تنازع، مشیر کو وزارتی درجہ دینے کی تجویز پر بحث چھڑ گئی
انہوں نے 11 مارچ سے 16 مارچ تک 6 روزہ پروگرام ’بنگابندھو امن مارچ‘ کا اعلان کیا تھا، تاہم مارچ کے پہلے ہی دن انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
بعد ازاں پلٹن تھانے کے سب انسپکٹر رفیع احمد نے ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا۔














