وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جاری مشرقِ وسطیٰ جنگ کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری اقدامات کے تحت سرکاری اداروں اور خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم آفس کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم نے ہفتہ کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور حکومتی کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھیں: کفایت شعاری اور عالمی یکجہتی: یومِ پاکستان کے جشن میں سادگی اختیار کرنے کا اعلان
اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ آئندہ 2 ماہ کے دوران 60 فیصد سرکاری گاڑیاں سڑکوں پر نہیں لائی جائیں گی، اس عمل کی نگرانی کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مختلف کارپوریشنز اور اداروں کے بورڈز میں شامل سرکاری نمائندوں کو اجلاس میں شرکت کی فیس نہیں دی جائے گی اور اس رقم کو حکومتی بچت میں شامل کیا جائے گا۔
یومِ پاکستان کی تقریبات سادگی سے منانے کی ہدایت
وزیراعظم نے دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کو ہدایت کی کہ 23 مارچ کی تقریبات انتہائی سادگی سے منعقد کی جائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ 2 ماہ کے دوران کابینہ ارکان، وزرا، مشیران اور خصوصی معاونین کی تنخواہیں بھی عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے سرکاری وزرا، وزرائے مملکت، خصوصی معاونین اور دیگر حکام کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے متعلقہ سیکریٹریز کو ہدایت دی کہ تمام کفایت شعاری اقدامات پر سختی سے عملدرآمد اور نگرانی کی جائے اور اس حوالے سے روزانہ رپورٹ جائزہ کمیٹی کو پیش کی جائے۔
اجلاس میں کیے گئے دیگر اہم فیصلے
• سرکاری محکموں میں غیر ضروری اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جائے گی۔
• وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین 2 ماہ کے لیے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں 25 فیصد رضاکارانہ کمی کریں گے۔
• گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران، جن کی ماہانہ آمدن 3 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، 2 دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر دیں گے (صحت اور تعلیم کے شعبے مستثنیٰ ہوں گے)۔
• نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی جون 2026 تک برقرار رہے گی۔
• سرکاری دفاتر کے لیے نئی پائیدار اشیا کی خریداری پر پابندی ہوگی، تاہم آئی ٹی خریداری محدود اجازت کے ساتھ ممکن ہوگی۔
• سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں کے دوران اکانومی کلاس میں سفر لازمی ہوگا۔
• سرکاری اجلاس زیادہ تر آن لائن منعقد کیے جائیں گے تاکہ سفری اخراجات کم ہوں۔
دفاتر اور تعلیمی اداروں سے متعلق اقدامات
• سرکاری دفاتر میں 4 روزہ ورک ویک نافذ کیا جائے گا، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
• سرکاری ملازمین میں سے 50 فیصد تک کو متبادل دنوں میں گھر سے کام کرنے کی اجازت ہوگی۔
• اسکولوں میں 16 مارچ سے 31 مارچ 2026 تک اسپرنگ چھٹیاں ہوں گی، تاہم امتحانات شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے۔
• کالجوں اور جامعات میں اس عرصے کے دوران مکمل آن لائن کلاسز ہوں گی۔
دیگر پابندیاں اور ہدایات
• موٹرویز پر رفتار کی حد 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہائی ویز پر 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔
• شادی کی تقریبات میں 200 مہمانوں کی حد مقرر کی گئی ہے اور صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔
حکومت کے مطابق ان تمام اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت کو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔













