پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کرکٹ تجزیہ کار راشد لطیف نے مستقبل میں سیاست میں آنے کا عندیہ دے دیا۔
راشد لطیف سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ الیکشن میں حصہ لیں تو کس جماعت کے ٹکٹ پر میدان میں اتریں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اگر وہ کبھی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایم کیو ایم سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔
کبھی الیکشن میں کھڑا ہوا تو ایم کیوایم سے کھڑا ہوں گا وہ بھی اس ایم کیوایم سے۔۔۔ سابق کپتان راشد لطیف کا سوال پر جواب pic.twitter.com/S2wuhMCzrH
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) March 15, 2026
جب ان سے سوال کیا گیا کہ الیکشن میں کب کھڑے ہوں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد الیکشن میں کھڑا ہوں گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سابق کپتان نے انکشاف کیا تھا کہ وہ 22 اگست 2016 کو مستقل طور پر کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے اور اب وہ کراچی کو یاد بھی نہیں کرتے۔
راشد لطیف نے کہا کہ انہیں اسلام آباد زیادہ پسند ہے۔ انہوں نے کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں رہائشی اور کھیلوں کے مسائل سنگین ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کراچی میں سب لوگ ڈی ایچ اے میں منتقل ہو گئے ہیں تو ملیر جیسے علاقوں کے لوگ کہاں جائیں؟
یہ بھی پڑھیں: سابق کپتان راشد لطیف کراچی چھوڑ کر اسلام آباد کیوں منتقل ہوئے؟ اصل وجہ سامنے آگئی
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کراچی اور لاہور کو کرکٹ کی نرسریاں کہا جاتا تھا مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ گراؤنڈز ختم کیے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں۔
راشد لطیف کے مطابق کراچی میں 30 سے 35 کرکٹ گراؤنڈز چائنہ کٹنگ کی نذر ہو چکے ہیں جہاں اب فلیٹس تعمیر ہو گئے ہیں جس کے باعث نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کھیلنے کی جگہ ہی نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کپتان راشد لطیف نے عثمان طارق کی تصویر کے ساتھ غیر قانونی بولنگ کا قانون کیوں یاد دلایا؟
انہوں نے لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ منٹو پارک میں پاکستان کے سات کپتان گزرے ہیں مگر اب وہاں سے سڑک گزار دی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی کی شاہراہ فیصل پر موجود تین کرکٹ گراؤنڈز بھی ختم ہو چکے ہیں جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کھلاڑی کہاں سے سامنے آئیں گے۔













