برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی، کینٹربری میں میننجائٹس کے ایک نایاب اور جارحانہ مرض کے پھیلاؤ کے بعد 2 افراد ہلاک اور 11 شدید بیمار ہو گئے ہیں۔ برطانیہ کی ہیلتھ سیکیوریٹی ایجنسی (یو کے ہیلتھ سیکیوریٹی ایجنسی) نے متاثرہ طلبا کو اینٹی بایوٹکس فراہم کی ہیں تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق اس مہلک بیماری کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو میننجائٹس اور سیپسس (خون میں انفیکشن) پر مشتمل ہیں۔ یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود سیال کو متاثر کرتی ہے، جس سے شدید بخار، سر درد، گردن کا سخت ہونا، قے، اسہال، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، روشنی سے حساسیت، ٹھنڈے ہاتھ اور پیر، دورے، الجھن اور شدید نیند جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاعلاج بیماریوں کا علاج: اب تک ناممکن کام کا بیڑا مصنوعی ذہانت نے اٹھا لیا
یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ کسی بھی شخص میں ان علامات کے ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا جان بچا سکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور عملے سے کہا کہ وہ بیماری کی ابتدائی علامات پر توجہ دیں کیونکہ یہ عام نزلہ، فلو یا نشے کے اثرات سے آسانی سے مغالطہ ہو سکتی ہیں۔
کینٹ یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا: ‘ہمیں شدید افسوس ہے کہ ہمارے طالب علم کا انتقال ہوا۔ ہمارے خیالات اور دعائیں متاثرہ خاندان، دوستوں اور یونیورسٹی کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔ طلبا اور عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔’
یہ بھی پڑھیے: ’کینسر کے ایام اذیت ناک تھے، مگر اس موذی مرض کا بھی علاج ہے‘
حکام نے طلبا اور عملے پر زور دیا کہ وہ علامات پر محتاط رہیں کیونکہ یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے اور شدید نتائج مرتب کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلبا اور نوجوان بالغ اس بیماری کے زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ وہ قریبی معاشرتی ماحول میں رہتے، پڑھتے اور میل جول کرتے ہیں، جس سے بیکٹیریا آسانی سے پھیلتا ہے۔













