فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمباکو انفورسمنٹ کیس میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
حافظ احسان احمد کھوکھر ایڈوکیٹ کے ذریعے دائر کردہ درخواست مین ایف بی آر نے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے منافی ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت وفاقی آئینی عدالت اپنے دائرہ اختیار کا استعمال کرے کیونکہ پشاور ہائیکورٹ نے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے تمباکو پر ٹیکس کم کرکے آدھا کردیا
درخواست کے مطابق، مردان میں سگریٹ بنانے والی فیکٹری کے خلاف وفاقی ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔
حکام نے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد کارروائی کے دوران 27 لاکھ 50 ہزار کلو گرام غیر مینوفیکچرڈ تمباکو برآمد کیا۔
مزید پڑھیں: سپر ٹیکس کیس: ٹیکس کی شرح حد سے تجاوز کر رہی ہے، ایکسپورٹرز کمپنیوں کا مؤقف
فیکٹری کے منیجرز برآمد شدہ تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی ادائیگی کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے، جس کی بنیاد پر ایکسائز رولز 2005 کے تحت مینوفیکچرنگ یونٹ کو سیل کیا گیا۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف شوکاز نوٹس جاری کرنے پر ہائیکورٹ کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ تمباکو کے بڑے ذخیرے کی برآمدگی قانونی کارروائی کے لیے کافی مواد تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حقائق اور شواہد کا جائزہ لینا متعلقہ اتھارٹی کا کام ہے، جس پر عدالت کو قابض ہونا مناسب نہیں تھا۔














