انگلینڈ میں کی گئی ایک تازہ تحقیق کے مطابق9 ماہ کے تقریبا 75 فیصد بچے روزانہ اسکرین ٹائم حاصل کررہے ہیں، جس کی اوسط 41 منٹ فی دن ہے۔ اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی کہ سنگل پیرنٹ گھرانوں میں بچوں کا اوسط اسکرین ٹائم 47 منٹ ہے، جبکہ دو والدین والے گھرانوں میں یہ 39 منٹ رہا۔
ایجوکیشن پالیسی انسٹیٹیوٹ (ای پی آئی) کی اس تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اکلوتے بچے اسکرین کے زیادہ استعمال میں شامل ہیں، جبکہ بہن بھائیوں والے بچوں میں یہ شرح 57 فیصد رہی۔
یہ بھی پڑھیں: رائیونڈ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بچے نے خود کشی کرلی
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اسکرین کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے ریڈنگ، کھیل اور باہر جانے جیسی سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی۔
ڈاکٹر ٹیمی کیمبل، ای پی آئی کی ڈائریکٹر فار ارلی یئرز، نے کہا کہ والدین کو صرف اسکرین کے استعمال کو کم کرنے پر فوکس کرنے کے بجائے ڈیجیٹل ٹولز کو بچوں کی نشوونما، بندھن اور خوشیوں کے لیے استعمال کرنے کی رہنمائی دی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اسکولوں میں بچوں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد
انگلینڈ کے چلڈرن کمشنر ریچل ڈی سوزا نے کہا کہ آنے والی گائیڈنس والدین کو اسکرین کے مناسب استعمال کے بارے میں قابل اعتماد مشورے فراہم کرے گی تاکہ وہ بچوں کی ترقی اور تفریح کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔
یہ تحقیق ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال اور بچوں کی روزمرہ سرگرمیوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتی ہے۔













