عید سے قبل بنگلہ دیش میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، صارفین پریشان

منگل 17 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود بنگلہ دیش میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے عید سے قبل صارفین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

تاجروں کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ رسد کی کمی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں وافر ذخائر موجود ہیں اور چٹاگانگ بندرگاہ پر تیل سے بھرے لنگر انداز کئی جہازوں سے مال اتارا جا رہا ہے۔

وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش میں سویابین اور پام آئل کا خام و ریفائنڈ صورتوں میں ذخیرہ 2 لاکھ 36 ہزار ٹن سے زائد تھا، جبکہ مزید کھیپ بھی مسلسل پہنچ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ جنگ: بنگلہ دیش کے حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ایئرپورٹ سے 500 سے زائد پروازیں منسوخ

اس وقت چٹاگانگ بندرگاہ پر تقریباً 3 لاکھ 14 ہزار ٹن خوردنی تیل لانے والے 7 جہاز موجود ہیں اور ان سے مال کی ترسیل جلد مکمل ہونے کی توقع ہے۔

اس کے باوجود ملک کی سب سے بڑی کموڈیٹی مارکیٹ کھاتونگنج میں رمضان کے دوران تھوک قیمتوں میں فی لیٹر 13 سے 16 ٹکا تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تاجروں کے مطابق بعض اوقات قیمتیں ایک ہی دن میں کئی بار تبدیل ہو رہی ہیں، جس کی وجہ ملز سے محدود سپلائی بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ خوردنی تیل کے کاروبار پر 7 بڑی ریفائنری مالکان کا غلبہ ہے، جو روزانہ تقریباً 9,100 ٹن تیل مارکیٹ میں فراہم کر رہے ہیں، جبکہ گزشتہ 3 ہفتوں میں تقریباً 85 ہزار ٹن سپلائی کی جا چکی ہے۔

بنگلہ دیش ٹریڈ اینڈ ٹیرف کمیشن نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں درحقیقت کم ہوئی ہیں۔

خام سویابین آئل کی ایف او بی قیمت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہو کر گزشتہ ہفتے 1,083 ڈالر فی ٹن رہ گئی، جو اس سے پہلے ہفتے 1,114 ڈالر تھی۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے سیاحتی شہر کوکس بازار میں عید کی چھٹیوں سے قبل ہوٹل بکنگ میں ریکارڈ اضافہ

کھاتونگنج کے دورے کے دوران وزیر تجارت عبدالمقتدر نے کہا کہ تھوک اور پرچون قیمتوں میں بڑا فرق ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ قیمتوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے تاجروں، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ فریقین پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

چٹاگانگ کی پرچون مارکیٹ میں کھلا سویابین آئل تقریباً 202 سے 204 ٹکا فی کلو جبکہ پام آئل 173 ٹکا فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جس سے صارفین پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ترکیہ اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق

کنزیومرز ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش نے الزام عائد کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کو جواز دینے کے لیے مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے۔

تاہم تاجر اس الزام کی تردید کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات اور ملز سے غیر مستقل سپلائی کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

عید کی آمد کے پیش نظر صارفین کو خدشہ ہے کہ اگر حکومت نے فوری مداخلت نہ کی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp