عالمی یومِ آب: پاکستان کی بھارت کے انڈس واٹرز ٹریٹی معلق رکھنے کے اقدام پر اظہار تشویش

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی یومِ آب (22 مارچ) کے موقع پر پاکستان نے کہا ہے کہ پانی تک محفوظ اور مستحکم رسائی ایک بنیادی انسانی حق اور پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔ بھارت کا انڈس واٹرز ٹریٹی کو معلق رکھنے کا فیصلہ خطے میں پانی کے حقوق اور انسانی تحفظ کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا بھارت پاکستان کا پانی روک سکتا ہے؟

انڈس واٹرز ٹریٹی 1960 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کے طور پر کام کر رہی ہے۔ پاکستان کی زراعت اور خوراکی نظام زیادہ تر انڈس بیسن کے بہاؤ پر منحصر ہے، اس لیے یہ معاہدہ صرف سفارتی دستاویز نہیں بلکہ معیشت، پیداوار، اور انسانی فلاح و بہبود کا ستون ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریٹی کی غیر یقینی صورتحال فصلوں کی منصوبہ بندی، پیداوار، اور دیہی آمدنی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ پانی کی عدم دستیابی پینے کے پانی، حفظان صحت اور صحت کے نظام کے لیے بھی خطرہ ہے، جبکہ ہائیڈرو پاور، صنعتی پیداوار اور شہری پانی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا

پاکستان نے عالمی یومِ آب کے موقع پر کہا کہ پائیدار پانی کی رسائی کے لیے ٹریٹی کی پاسداری ضروری ہے تاکہ زراعت، غذائی تحفظ، صحت، اور اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp