افغان شہریوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف دنیا بھر میں سخت اقدامات

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں افغان شہریوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث مغربی ممالک، بالخصوص برطانیہ میں اب سخت اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں افغان شہریوں کے ویزوں پر عارضی پابندی عائد کی ہے، جبکہ وزیر داخلہ شبانہ محمود نے اس اقدام کی وجہ سہولتوں کے غلط استعمال کو قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: برطانیہ میں بچی سے زیادتی کا مقدمہ، افغان شہری مجرم قرار

امریکا میں نومبر 2025 کے دوران ایک افغان تارک وطن نے وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں کو قتل کردیا۔ ایف بی آئی کے مطابق ملزم کے افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں سے روابط تھے۔

برطانیہ میں 2 افغان کم عمر پناہ گزینوں کو 15 سالہ لڑکی کے اغوا اور زیادتی کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی۔ اسی طرح 25 سالہ مسافر کو ساؤتھمپٹن میں ایک نشے میں دھت خاتون کے ساتھ زیادتی کے جرم میں 10 سال قید کی سزا دی گئی، جبکہ 23 سالہ احمد ملاخیل کو 12 سالہ بچی کے اغوا اور زیادتی کا مجرم قرار دیا گیا۔

مزید برآں 2 افغان پناہ گزین رحمت خان محمدی اور محمد بلال کو ڈیٹنگ ایپ Grindr کے ذریعے ہم جنس پرست افراد کو نشانہ بنا کر منظم چوری اور فراڈ کے جرم میں قید کی سزا دی گئی۔

جرمنی میں 2025 کے دوران ایک پارک میں چاقو حملے میں ایک افغان پناہ گزین نے 2 افراد کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کردیا، جس کے بعد جرمنی نے پرتشدد جرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور سنگین جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی بے دخلی کا عمل تیز کردیا۔ گزشتہ سال کے دوران 83 افغان شہریوں کو ملک بدر کیا گیا۔

ایران نے 2022 سے اب تک 11 لاکھ سے زیادہ افغان شہریوں کو بے دخل کیا ہے اور مزید 40 لاکھ افراد کی بے دخلی کا منصوبہ زیر غور ہے، جبکہ پاکستان بھی 2023 سے اب تک لاکھوں افغان شہریوں کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر واپس بھیج چکا ہے۔

تاجکستان نے بھی 2025 میں اقوام متحدہ کی تنبیہات کے باوجود 1700 سے زیادہ افغان شہریوں کو بے دخل کیا۔

جرمنی نے چارٹر پروازوں کے ذریعے افغان شہریوں کی بے دخلی کا عمل دوبارہ شروع کردیا ہے اور 2024 سے اب تک 100 سے زیادہ افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جبکہ آسٹریا نے بھی سخت پالیسیوں کا عندیہ دیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان مخالف بیان پر افغان شہری گرفتار، ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ

یورپی یونین کے 19 ممالک اور ناروے نے مشترکہ طور پر یورپ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے لیے یورپی سطح پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب طالبان کے کمیشن برائے امور مہاجرین کے مطابق ایک ہی دن میں پاکستان اور ایران سے 2 ہزار سے زیادہ افغان شہریوں کو بے دخل کرکے افغانستان واپس بھیجا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp