مشہور گیم شو ’پرائس از رائٹ‘ کے دوران خواتین کے خلاف ہراسگی کے ماحول کا انکشاف ایک نئی دستاویزی سیریز میں سامنے آیا ہے۔
سابق ماڈلز ہولی ہالسٹرم، کیتھلین بریڈلی اور پروڈیوسر باربرا ہنٹر نے شو کے دوران خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی ہراسگی کی کہانیاں بیان کیں۔ ہنٹر نے کہا کہ وہ لفٹ میں تھیں جب ایک مرد نے ان پر ہاتھ رکھ دیا، جسے انھیں زور لگا کر دور کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں خواتین کو ہراساں کرنے والے چینی شہری نے معافی مانگ لی
ہالسٹرم، جو 1977 سے 1995 تک ماڈل رہیں، نے بتایا کہ شو کی پروڈکشن نے ’’دس سیکنڈ قاعدہ‘‘ متعارف کروایا، جس کے تحت کسی کو ماڈلز کو گھورنے کی مدت محدود کرنے کی ظاہری کوشش کی گئی، لیکن عملی طور پر یہ کوئی مؤثر اقدام نہیں تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ میزبان باب بارکر نے خواتین کو ہراسگی کی شکایت کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور شو کے سیٹ پر خواتین کے خلاف جاری رویے کو چھپانے میں کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ گلاسز کا خطرناک استعمال، خواتین سوشل میڈیا پر ہراسانی کا شکار
ہالسٹرم نے یہ بھی کہا کہ بارکر کا سابق ماڈل ڈائن پارکنسن کے ساتھ تعلق تھا، جبکہ وہ 1983 سے نینسی برنیٹ کے ساتھ تعلق میں تھے، اور یہ معاملہ شو کے ماحول پر اثر انداز ہوا،دستاویزی سیریز کے دو اقساط بدھ، 18 مارچ کو نشر ہوں گی۔














