بجلی کی کمپنیوں نے فروری میں صارفین کے بلوں میں مثبت فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے بعد اپریل کے بلوں میں فی یونٹ 1.64 روپے اضافے کی درخواست کر دی ہے۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے کہا کہ فروری میں بجلی کی کھپت میں اضافہ ہونے کے باوجود زیادہ تر پیداوار ملکی اور سستی ذرائع سے ہوئی تھی، تاہم فیول کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے اضافی چارجز کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے ’ڈسکوز‘ کی بلنگ میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لے لیا
اجازت ملنے کی صورت میں تمام ڈسکوز اور کے-الیکٹرک صارفین سے اپریل کے بلوں میں تقریباً 12.2 ارب روپے وصول کیے جائیں گے۔
نیپرا نے اس درخواست پر عوامی سماعت 31 مارچ کو طلب کی ہے۔ پاور کمپنیوں کے مطابق فروری میں فی یونٹ فیول کی اوسط لاگت 8.37 روپے رہی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 8.23 روپے سے زیادہ ہے۔
فروری میں ہائیڈرو پاور نے قومی گرڈ میں 23 فیصد حصہ حاصل کیا، نیوکلیئر پاور کا حصہ 18.83 فیصد رہا جبکہ ملکی کوئلے پر مبنی پیداوار 16 فیصد، درآمد شدہ کوئلہ 15 فیصد، مقامی گیس 11.52 فیصد اور ریگیسفائیڈ ایل این جی 9.47 فیصد رہی۔ فرنس آئل اور ڈیزل سے پیداوار فروری میں صفر رہی۔
یہ بھی پڑھیں: کمرشل، زرعی اور بڑے صارفین کے لیے بجلی مہنگی، صنعتی صارفین کا بنیادی ٹیرف برقرار
ریگیسفائیڈ ایل این جی سب سے مہنگی رہی، فی یونٹ 23.21 روپے، درآمد شدہ کوئلہ 13.56 روپے، مقامی کوئلہ 13.5 روپے اور مقامی گیس 12.22 روپے فی یونٹ رہی۔ نیوکلیئر ایندھن کی لاگت 2.50 روپے فی یونٹ رہی۔
فیول چارج ایڈجسٹمنٹ ہر ماہ نظرثانی کی جاتی ہے اور صارفین کے بلوں میں ماہانہ بنیاد پر لاگو ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت کے فیصلے کے تحت یہ کے-الیکٹرک کے صارفین پر بھی یکساں طور پر لاگو ہے۔














