خیبر پختونخوا: چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی، متاثرہ لڑکی کی شکایت پر 2 ماہ بعد ایف آئی آر درج

جمعرات 26 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور پولیس نے ایک کم عمر لڑکی کی شکایت پر 2 ماہ پرانے اجتماعی زیادتی کے کیس کی ایف آئی آر درج کرلی، جس میں لڑکی کو قریبی رشتہ دار نے دوست کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

پشاور کے تھانہ چمکنی نے بونیر سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ بچی کی شکایت پر 2 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ جس کی کاپی وی نیوز کو موصول ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور میں 2 بہنوں کیساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ، مرکزی ملزمان گرفتار

تھانہ چمکنی میں ایف آئی آر رواں ماہ کی 10 تاریخ کو درج کی گئی۔ جس میں 2 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر سے ہے۔ جہاں ماموں زاد نے دوست سے مل کر مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ایف آئی آر کے مطابق لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ وہ ایک شادی میں شرکت کے لیے بھائی کلے میں اپنے خالہ کے گھر گئی تھی اور شام کے وقت ان کے ماموں زاد نے کچھ خریداری کے لیے پشاور چلنے کا کہا۔

ایف آئی آر میں مزید لکھا ہے کہ متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ گاڑی میں ان کے ماموں زاد کا دوست بھی تھا اور راستے میں چلتی گاڑی میں پچھلی سیٹ پر ان کے ساتھ دونوں نے باری باری بدفعلی کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ واقعہ 5 جنوری کو پیش آیا اور رات کے وقت موٹروے پر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگلے روز یعنی 6 جنوری کو وہ انہیں لے کر پشاور کے کارخانو بازار گئے جہاں لڑکوں نے آئس (نشہ) خریدا۔ خود بھی آئس کا نشہ کیا اور لڑکی کو بھی زبردستی آئس کا نشہ کرایا۔

متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ 6 جنوری کو بھی آبائی علاقے بونیر روانگی سے قبل موٹروے ٹول پلازہ کے قریب اس کے ساتھ بدفعلی ہوئی اور دونوں نے باری باری 6 بار انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا۔

متاثرہ لڑکی کے مطابق آئس کے نشے کے باعث وہ ہوش میں نہیں تھی۔ اس دوران ان کی گاڑی پشاور ٹول پلازہ پہنچی جہاں ایکسائز ناکے پر گاڑی کو روکا گیا اور ایکسائز پولیس نے دونوں لڑکوں کو گرفتار کیا جبکہ لڑکی کو پشاور کے ایک نجی منشیات کے بحالی اسپتال منتقل کیا گیا۔

لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اسپتال سے علاج کے بعد انہیں یتیم خانہ منتقل کیا گیا۔ جہاں وہاں کے اسٹاف کے ذریعے انہوں نے اپنے والد سے رابطہ کیا۔ جو انہیں لینے پشاور پہنچ گئے۔ پولیس نے متاثرہ کی شکایت پر ان کے قریبی رشتہ دار اور ان کے دوست کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت، منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی

پشاور پولیس کے مطابق لڑکی اپنے والد کے ساتھ ایف آئی آر اندراج کے لیے تھانے آئی تھی اور ان کی شکایت پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ لڑکی 2 ماہ سے زائد عرصے تک کہاں تھی، کیوں رپورٹ درج نہ کرائی؟ پولیس کو تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔ لڑکی کے مطابق ان کا اسپتال میں علاج ہوا پھر یتیم خانے منتقل کیا گیا۔ کیس کی مزید تفتیش جاری اور میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے۔

میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے پولیس افسر نے بتایا کہ لڑکی کے مطابق ان کے ساتھ بدفعلی ہوئی ہے۔ جبکہ بدفعلی کا جلد میڈیکل کرنا ضروری ہے جبکہ وقت گزرنے کے بعد میڈیکل رپورٹ میں اس کی تصدیق ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے متاثرہ لڑکی کا میڈیکل کرایا ہے اور اگر رپورٹ میں کسی قسم کی زیادتی کی تصدیق ہوتی ہے تو مزید دفعات شامل کی جائیں گی۔ جبکہ ابتدائی طور پر چائلڈ پروٹیکشن اور دیگر دفعات ایف آئی آر میں شامل کی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp