اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل کی زیر صدارت آزاد کشمیر عام انتخابات 2026 کی تیاریوں سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرتے ہوئے شفاف، منصفانہ اور بروقت انتخابات کے انعقاد کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی عدالت کی جانب سے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی مذمت
اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفی مغل نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر عام انتخابات 2026 کا شیڈول مئی میں جاری کیا جائے گا جبکہ انتخابات مقررہ وقت پر پاک فوج کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں انتخابی عمل کو شفاف، غیر جانبدار اور مؤثر بنانے کیلئے مختلف تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر ووٹر لسٹوں کی بروقت تیاری، پولنگ اسٹیشنز پر سہولیات کی بہتری اور انتخابی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ممبر الیکشن کمیشن سید نذیر گیلانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نادرا ڈیٹا بیس کے ساتھ الیکٹورل رول کا ڈیجیٹل لنک مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے تحت 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے شہری خودکار طور پر ووٹر لسٹ میں شامل ہو جائیں گے جبکہ شناختی کارڈ میں کسی بھی تبدیلی کی معلومات بھی خود بخود الیکشن کمیشن کو موصول ہوں گی۔

اجلاس میں سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کو سوشل میڈیا پر شیئر کریں تاکہ عوامی آگاہی میں اضافہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ مہاجرین جموں و کشمیر کے ووٹرز کے لیے خصوصی انتظامات، نادرا موبائل وینز کی فعالیت اور رجسٹریشن کے عمل کو تیز بنانے پر بھی غور کیا گیا۔
سیاسی جماعتوں نے تجویز دی کہ ووٹر لسٹیں وارڈ کی سطح پر مرتب کی جائیں جبکہ بعض یونین کونسلوں میں ووٹرز کی تعداد میں کمی پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ مہاجرین حلقوں میں ووٹر لسٹوں کی درستگی، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات اور ضابطہ اخلاق کو مزید واضح بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ مہاجرین حلقوں میں ملٹری فورس تعینات کی جائے جبکہ انتخابی شفافیت کے لیے مینویل چیکنگ کا طریقہ بھی زیر غور لایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت آزاد کشمیر کا وفاقی حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کو اپنانے کا فیصلہ
چیف الیکشن کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ووٹ کے تقدس کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور قانون کے مطابق الیکشن سے 120 روز قبل تمام ورکنگ پلان مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو مشاورت کیلئے مدعو کیا گیا تھا اور سب نے شفاف اور بروقت انتخابات کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ریاستی سبجیکٹ کے خاتمے کا اختیار کمیشن کے پاس نہیں ہے جبکہ اجلاس میں 12 مہاجرین نشستوں کیلئے ووٹر سسٹم کو مزید بہتر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔
آخر میں چیف الیکشن کمشنر نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ انتخابات کی تیاریوں میں اپنی ذمہ داریاں بروقت مکمل کریں تاکہ ایک شفاف اور قابل اعتماد انتخابی عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔













