حکومت نے 2 اور 3 پہیہ گاڑیوں کے لیے سستا پیٹرول فراہم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، اس مقصد کے لیے صوبوں سے ان کے این ایف سی حصے میں سے 154 ارب روپے دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں اضافے کے باوجود ڈیزل اور پیٹرول مہنگا نہ کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں مہنگے پیٹرول کے اثرات کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
انگریزی اخبار میں شائع مہتاب حیدر کی رپورٹ کے مطابق حکومت کے پاس 2 بڑے آپشنز زیر غور ہیں، ایک یہ کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہ راست عوام پر ڈالا جائے، جبکہ دوسرا یہ کہ موٹر سائیکلوں کے لیے 20 لیٹر اور رکشوں کے لیے 30 لیٹر تک محدود سبسڈی دی جائے۔ اس سبسڈی کے لیے تقریباً 300 ارب روپے درکار ہوں گے۔

مرکزی حکومت نے صوبوں سے کہا ہے کہ وہ اس منصوبے کے لیے اپنے این ایف سی حصے میں سے 154 ارب روپے مختص کریں، جبکہ وفاق بھی اتنی ہی رقم فراہم کرے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول کی فراہمی مستحکم ہے اور 10 مئی تک ضرورت پوری کرنے کے لیے وافر ذخیرہ موجود ہے، تاہم خلیجی خطے کی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آرامکو کا بڑا ریلیف، ہائی اوکٹین پیٹرول کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر کمی
حکام کے مطابق محدود مالی گنجائش کے باعث کسی بھی ریلیف پیکج کو احتیاط سے تیار کرنا ہوگا تاکہ معیشت پر دباؤ نہ بڑھے، جبکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت بھی فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وفاق اور صوبے مل کر جلد سبسڈی کے حتمی طریقہ کار کو مکمل کریں گے تاکہ مہنگائی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔













