خیبرپختونخوا: مزمل اسلم کی بحیثیت وزیر تعیناتی متنازع، اسپیکر نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

پیر 30 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا اسمبلی میں وزیر خزانہ مزمل اسلم کی تعیناتی اس وقت متنازع بن گئی جب اپوزیشن نے چیف سیکریٹری کے ذریعے آرٹیکل 130 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کرنے اور بغیر حلف کے عہدہ سنبھالنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے مزمل اسلم کی وزیر تعیناتی پر اعتراض اٹھا کر اسے غیر قانونی قرار دیا۔

مزید پڑھیں: 2026 معیشت کے لیے نہایت کٹھن سال، پیٹرولیم لیوی کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا ہوگا، مزمل اسلم

انہوں نے مزمل اسلم کو وزیر بنانے کا نوٹیفکیشن پڑھ کر اسمبلی کو سنایا اور کہاکہ مزمل اسلم جو غیر منتخب ہیں، انہیں وزیر تو بنایا جا سکتا ہے لیکن حکومتی طریقہ کار قانون کے مطابق نہیں اپنایا گیا۔

احمد کریم کنڈی نے بتایا کہ مزمل اسلم کو 6 ماہ کے لیے وزیر بنانے کا نوٹیفکیشن چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے جاری کیا ہے جو غیر قانونی ہے۔

’چیف سیکریٹری سے پوچھا جائے کہ مزمل اسلم کو کیسے وزیر بنایا گیا۔ مزمل اسلم نے گزشتہ ایک ماہ میں جتنے کام کیے، سب غیر قانونی ہیں۔‘

وزیر بنانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

اپوزیشن ممبر احمد کریم کنڈی نے بتایا کہ آئین کے مطابق وزیر بنانے کا ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت گورنر، وزیراعلیٰ کے مشورے سے وزیر مقرر کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی غیر منتخب شخص کو 6 ماہ تک وزیر بنانے کا اختیار ہوتا ہے۔ ساتھ ہی سوال اٹھایا کہ چیف سیکریٹری کیسے وزیر تعینات کر سکتا ہے؟

انہوں نے مزید کہاکہ آئین کے مطابق وزیراعلیٰ کے مشورے سے وزیر کی تعیناتی ہوتی ہے، جس کے بعد باقاعدہ حلف اٹھانا ہوتا ہے۔ ’کوئی بھی صوبائی وزیر حلف اٹھائے بغیر دفتر میں داخل نہیں ہو سکتا، لیکن مزمل اسلم باقاعدہ وزیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔‘

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ’لپھٹر سنگھ‘ والی بادشاہی ہے، جس کے بارے میں ہم سنتے تھے۔ پارلیمان کی حدود و قیود آئین طے کرتا ہے۔

وزیر قانون اسمبلی کو مطمئن نہ کر سکے

اپوزیشن کے اعتراض پر وزیر قانون نے اسمبلی میں مؤقف اپنایا کہ مزمل اسلم اب بھی مشیر ہیں، انہیں صرف وزیر کا اسٹیٹس دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ مزمل اسلم غیر منتخب ہیں اور غیر منتخب شخص 6 ماہ تک عہدے پر رہ سکتا ہے۔

وزیر قانون کے مؤقف پر احمد کریم کنڈی نے کہاکہ نوٹیفکیشن میں مزمل اسلم کی تعیناتی باقاعدہ آرٹیکل 130 کلاز 9 کے تحت ہوئی ہے، جس سے انہیں باقاعدہ وزیر بنایا گیا ہے، جبکہ مراعات کے لیے اسٹیٹس دینے کے لیے اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔

احمد کریم کنڈی نے کہاکہ چیف سیکریٹری نے غیر قانونی کام کیا ہے اور اگر ان کی بات غلط ثابت ہوئی تو وہ معافی مانگنے کو تیار ہیں۔

اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے اسپیکر پر زور دیا کہ یہ ایک اہم آئینی معاملہ ہے، اسے فوری طور پر حل کیا جائے۔ تاہم وزیر قانون اور ایڈووکیٹ جنرل دونوں اسمبلی میں موجود ہونے کے باوجود بھی اسمبلی کو مطمئن نہ کر سکے، جس کے باعث اسپیکر نے وزیر قانون اور ایڈووکیٹ جنرل کو کل تک کا وقت دے دیا اور مزمل اسلم کو بطور مشیر خزانہ اسمبلی میں بیٹھنے کی ہدایت کی۔

مزید پڑھیں: فنڈز کے معاملے میں وفاق سے کوئی شکایت نہیں، مزمل اسلم

یاد رہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما خیبر پختونخوا حکومت میں مشیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

علی امین گنڈاپور کی وزارت اعلیٰ کے دور میں انہیں مراعات کے حصول کے لیے وزیر خزانہ کا اسٹیٹس دیا گیا تھا، جبکہ سہیل آفریدی نے بھی انہیں مشیر خزانہ بنایا تھا۔ جبکہ رواں سال مارچ سے انہیں وزیر خزانہ بنایا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارتی ٹرین میں ملنا والا کھانا مسافر خاتون کے لیے بدترین الرجی کا باعث بنا گیا

صحارا کی گرد نے یونانی جزیرے کو نارنجی رنگ میں ڈبو دیا، پروازیں متاثر، طوفان سے تباہی

بلوچستان میں طوفانی بارش اور ژالہ باری سے تباہی، متعدد ہلاکتیں

مجھ سے جلنے والوں کی اپنی کوئی پہچان نہیں، دیدار کے الزامات پر ریشم کا سخت ردعمل

ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟