امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں ایشیائی کاروباری اوقات میں خام تیل کی قیمت تقریباً 4 سے 5 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 106.04 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 104.02 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ گزشتہ سیشن میں قیمتیں کچھ کم ہوئی تھیں تاہم 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی جلد ختم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: طائف کا گلاب عالمی منڈی میں مقبول، سعودی معیشت کو تقویت کا ایک اور ذریعہ مل گیا
ٹی وی خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں امریکی فوجی مقاصد ‘تکمیل کے قریب’ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا اس کے بجلی پیدا کرنے والے تمام بڑے مراکز کو نشانہ بنائے گا۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد راستہ فراہم کرتی ہے، بدستور کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس اہم گزرگاہ کو کھولنے کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی، جس سے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی منڈی میں اضافے کے باوجود ڈیزل اور پیٹرول مہنگا نہ کرنے کا فیصلہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کو مشرق وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں اور اتحادی ممالک خود اس راستے کی حفاظت کریں۔ ماہرین کے مطابق صورتحال میں مزید کشیدگی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔














