اسلام آباد میں آخری اوور

جمعہ 10 اپریل 2026
author image

نعمت خان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگر آپ کبھی ایشز سیریز کے کسی سنسنی خیز مقابلے یا پاک بھارت ٹاکرے کے دوران اپنی نشست کے کونے پر دل تھام کر بیٹھے ہوں، تو آپ اس کیفیت سے بخوبی واقف ہوں گے۔ جب ہوا تھم جائے، اسٹیڈیم پریشر ککر بن جائے اور جیت کا سارا دارومدار آخری 6 گیندوں پر آ ٹھہرے۔ بیٹنگ سائیڈ کو جیت کے لیے 10 رنز درکار ہوں اور اس کے پاس صرف 2 وکٹیں باقی رہ جائیں۔ ہر گیند ایک دھڑکن ہے اور فیلڈر کی ہر حرکت زندگی اور موت کا حساب۔ مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری کے ’ہائی اسٹیک‘میدان میں، اسلام آباد کو بالکل اسی قسم کے ایک ’آخری اوور‘ کے لیے گیند تھما دی گئی ہے۔ سامنے کریز پر کھڑا بلے باز ایک ممکنہ عالمی تباہی ہے اور ’پچ‘ وہ دنیا جو تہذیبی خاتمے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ مگر کرکٹ کے برعکس، جہاں ایک کی جیت دوسرے کی ہار ہے، یہاں اگر پاکستان ہفتے کو ہونے والے مذاکرات میں ’میڈن اوور‘ کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے، تو جیت پوری انسانیت کی ہوگی۔

اس میچ کی صرف آخری 6 گیندیں ہی سانسیں روک دینے والی نہیں ہوں گی بلکہ ہفتے کے روز پاکستان کی میزبانی میں ایرانی اور امریکی حکام کی اسلام آباد میں ہونی والی اس ملاقات تک پہنچنے کا راستہ بھی کسی سنسنی خیز کرکٹ میچ کی طرح کٹھن اور دشوار گزار رہا۔

جب کشیدگی اس نہج پر پہنچی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہ لرزہ خیز الٹی میٹم جاری کردیا جس سے ’پوری تہذیب کے مٹ جانے‘ اور دنیا کی تباہی کا خدشہ ہوا، تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ ’میچ‘ مکمل طور پر ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ کسی بڑے سے بڑے تجزیہ کار کے گمان میں بھی نہ تھا کہ صورتحال کو سنبھالا جاسکے گا یا مذاکرات کا کوئی ’آخری اوور‘ بھی ممکن ہوپائے گا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی خصوصی رپورٹ بتاتی ہے کہ 8 اپریل کو جنگ روکنے کی کوششیں اپنی ناکامی سے محض چند گھنٹے دور تھیں۔ جب سعودی عرب کے شہر جبیل میں پیٹروکیمیکل تنصیبات پر ایرانی حملے نے ریاض میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی، تو پسِ پردہ ہونے والی ہفتوں کی محنت پر پانی پھرتا نظر آیا۔ پاکستان، جس کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے، اس کے لیے یہ معاملہ محض سفارتکاری نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن گیا۔

جیسے جیسے ٹرمپ کی دی ہوئی ڈیڈ لائن کا وقت قریب آرہا تھا، پاکستانی کی سویلین اورعسکری قیادت نے کریز پر آکر چارج سنبھالا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی رسانی کے لیے ایک ’آخری کوشش‘ کی گئی تاکہ وہ عارضی جنگ بندی ممکن ہوسکے جس نے ہفتے کے مذاکرات کی راہ ہموار کی ہے۔

رابطوں کی یہ فہرست کسی ’آل اسٹار الیون‘ سے کم نہ تھی۔ ان لمحات کو ’اعصاب شکن اور بے دم کر دینے والا‘ قرار دیا گیا، یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے کوئی باؤلر دنیا کے خطرناک ترین ’پاور ہٹر‘ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہو۔ رپورٹس کے مطابق ایک وقت میں مذاکرات تقریباً دم توڑ چکے تھے کیونکہ ایران جبیل حملوں کے بعد انتہائی نازک صورتحال سے دوچار تھا اور واشنگٹن اپنی ڈیڈ لائن میں نرمی کے موڈ میں نہیں تھا۔

اس میچ میں وہ ’ڈاٹ بال‘ جس نے پورا مومنٹم بدل دیا، تب آئی جب پاکستان نے 2 متضاد قوتوں کو بیک وقت مینیج کیا۔ رائٹرز کے مطابق، اسلام آباد نے جبیل حملے پر تہران کو اپنی زندگی کا ’سخت ترین غصہ‘ ریکارڈ کروایا، لیکن ساتھ ہی متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واشنگٹن پر بھی دباؤ ڈالا۔ تہران کی شرط واضح تھی کہ گولہ باری کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں، جس پر پاکستان نے واشنگٹن کو باور کروایا کہ اسرائیلی اقدامات امن کی کوششوں کو سبوتاژ کررہے ہیں۔ جب پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے ’ہاتھ ہولے رکھنے‘ کی یقین دہانی حاصل کرلی، تب تہران عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوا۔ اس ابتدائی مرحلے کا کلائمیکس رات کی تاریکی میں ہوا، جب دنیا سو رہی تھی، اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان ہاٹ لائن سرخ ہو رہی تھی اور صدر ٹرمپ نے بریک تھرو کی خبر عام کرنے سے چند منٹ قبل پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر تفصیلی گفتگو کی۔

اگرچہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی مستقل امن یا پابندیوں کے خاتمے کی ضمانت نہیں، مگر ایک ’تہذیب کے خاتمے‘ اور تباہی کا فوری خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے۔ تاہم، آخری اوور اب بھی باقی ہے، جو ہفتے کے روز اسلام آباد میں کھیلا جائے گا۔

کرکٹ میں ’مین آف دی میچ‘وہ ہوتا ہے جو اس وقت کھیل کا پانسہ پلٹے جب دباؤ اپنے عروج پر ہو۔ امریکا اور ایران کے درمیان اس ’سفارتی میچ‘ میں اب تک پاکستان نے وہی مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ایک ضدی تہران اور غیر لچکدار واشنگٹن کے درمیان پُل کا کردار ادا کرکے اسلام آباد نے ثابت کیا ہے کہ عالمی تباہی روکنے کے لیے ’مڈل پاور ڈپلومیسی‘ اب بھی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرا ہے اور دنیا کی نظریں اسکرین پر جمی ہیں۔ اگر اس ہفتے کو اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں، تو جیت انسانیت کی ہوگی، لیکن ’مین آف دی میچ‘ پاکستان قرار دیا جائے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گزشتہ سیزن میں پی ایس ایل ادھوری چھوڑنے کے سوال پر کوشل مینڈس کی خاموشی، میڈیا مینیجر کی مداخلت

امریکا اور ایران ایک میز پر، آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

ایران و امریکا کی 40 سالہ دشمنی کا سفر: دونوں حریف مذاکرات تک کیسے پہنچے؟

سر ظفر اللہ خان سے اسحاق ڈار تک: پاکستان کی خاموش سفارتکار ی کی طویل داستان

عالمی امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار باعث مسرت ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

امریکا اور ایران ایک میز پر، آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی پاکستانیوں سے متاثر، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اہم قرار دیدی

ایران، امریکا کو ایک جگہ بٹھانا بڑی کامیابی ہے، پاکستان دنیا کو کشیدگی سے بچانے کی راہ پر گامزن ہے، جرمن صحافی اسٹیفن شوارزکوف

کالم / تجزیہ

معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا

وہیل چیئر پر دنیا کی سیاحت کرنے والی مہم جُو خواتین

اسلام آباد مذاکرات: لبنان جنگ سب بگاڑ سکتی ہے