وہیل چیئر پر دنیا کی سیاحت کرنے والی مہم جُو خواتین

ہفتہ 11 اپریل 2026
author image

شبیر سومرو

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پائے مرا لنگ ’است‘
ملکِ خدا تنگ نیست!
’کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ میں کسی دوسرے ملک میں ہوتی ہوں،میں نے ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے ٹرین یا بس میں سیٹ بک کرائی ہوتی ہے مگر جب میں اسٹیشن یا بس ٹرمینل پہنچتی ہوں تو مجھے دیکھ کر ڈرائیور لے جانے سے معذرت کرلیتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ میں معذور ہوں اور چل پھر نہیں سکتی۔اس بس یا ٹرین میں یہ خصوصی انتظام نہیں ہوتا کہ مجھے وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے سوار کرایا جاسکے۔اس وقت مجھے اپنی معذوری پر بہت رونا اور غصّہ آتا ہے۔۔۔ مگر یہ کیفیت وقتی ہوتی ہے۔ لوگوں کا ایسا روّیہ مجھے مایوس نہیں کرتا۔ میں ہر ایسے واقعے کے بعد نئی ہمّت، نئے حوصلے اور نئے جوش کے ساتھ دنیا دیکھنے اور اپنے پڑھنے والوں کو دکھانے کا سلسلہ شروع کردیتی ہوں ۔ــ‘
چلنے پھرنے سے معذور اسٹیسی کرسٹی دنیا کی ان سینکڑوں عورتوں اور مردوں میں شامل ہیں، جنھوں نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بنایابلکہ وہ ہم جیسے لوگوں سے زیادہ سرگرم، متحرک، زندہ دل اور پرجوش ہیں۔

اس کے باوجود کہ وہ چل پھر نہیں سکتیں، انھوں نے درجنوں ملکوں کے سیکڑوں شہروں اور قصبوں کی سیاحت کی ہے اور اس سلسلے کو وہ تاعمر جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ گزشتہ برس وہ اٹلی کے شہر وینس میں تھیں، جس شہر کو وہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کرتی ہیں۔ ویسے تو پانی کی گلیوں والا شہر وینس سبھی کو پسند ہے مگر اسٹیسی کے پاس اس سے محبت کرنے اور بار بار یہاں آنے کی ایک ٹھوس وجہ بھی ہے۔

وینس میں عام ٹریفک یعنی گاڑیاں نہیں چلتیں کیوں کہ اس کی سڑکیں دراصل پانی کی نہریں ہیں اور ان میں گنڈولے یعنی کشتیاں چلتی ہیں۔ اور وینس کے ہر گنڈولے میں اسٹیسی جیسے معذور سیاحوں کو سوار کرانے کے لیے خصوصی ریمپس (Ramps) ہوتے ہیں۔معذور مسافروں کے لیے یہ سہولت اب دنیا بھر کی بسوں، ٹرینوں میں دی جانے لگی ہے مگر کچھ ملک اور شہر،ہماری طرح ابھی اس انتظام سے دور ہیں۔

ہم اس فیچر کے ذریعے اسٹیسی جیسی کچھ معذور مگر باہمت سیاح خواتین کی زندگی پر نظر ڈال رہے ہیں جو وہیل چیئر پر دنیا گھومتی پھرتی ہیں اور اپنے مشاہدات اور تجربات بھی اپنے بلاگس اور وی لاگس کے ذریعے دنیا کے ساتھ شیئر کرتی رہتی ہیں۔ ان میں ایلیزیا کیزریان، وِلیسا تھامپسن، ممبئی کی پرویندر چاؤلہ اور کئی درجن دوسری سیاح شامل ہیں جو اپنی وہیل چیئر پر بیٹھ کر دنیا دیکھتی پھرتی ہیں۔
سب سے پہلے اسٹیسی کرسٹی کی بات اور احوال، جو اُن سب سیاح خواتین سے زیادہ گھومتی ہیں اور اپنے قارئین کو ہر وقت اپنے سفر کے تجربات سے آگاہ رکھتی ہیں۔ اسٹیسی سے گذشتہ دنوں ایک انٹرویو میں ان کی پسند اور ناپسند سے متعلق پوچھا گیا توان کا جواب کچھ یوں تھا۔
’مجھے دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز ناپسند ہے، وہ سیڑھیاں ہیں اور میری پسندیدہ چیز ہے ریمپ یا وہ تختہ جو بسوں،ٹرینوںاور دیگر سفری ذرائع میں سوار ہونے کے لیے مجھ جیسوں کا مددگار ہوتا ہے۔

لاس اینجلز میں میری اپارٹمنٹ بلڈنگ کا گراؤنڈ لیول عام زمین سے تین قدم اونچا ہے۔ اس لیے مجھے ہربار گھر سے نکل کر کہیں جاتے ہوئے اور گھر واپس آنے پر ان قدمچوں پر پہلے ریمپ رکھوانا پڑتا تھا، اس کے بعد ہی میری وہیل چیئر گذر سکتی تھی۔ اس مسئلے کو مستقل حل کرنے کے لیے مجھے اپنے خرچے پر سیمنٹ سے پختہ ریمپ بنوانا پڑا ہے۔ اس سے میرے جیسے دیگر معذوروں کو بھی آسانی ہوگئی ہے۔ میں جب ٹرین سے سفر کرنے کے لیے کسی اسٹیشن پر آتی ہوں تو وہاں کھڑے ہونے کے لیے وہیل چیئر کا نشان تلاش کرتی ہوں تا کہ ٹرین ڈرائیور مجھے پلیٹ فارم پر اس خاص مقام پر انتظار کرتے ہوئے دیکھ لے اور مجھے سوار کرانے کے لیے ٹرین کی بوگی کے دروازے اور پلیٹ فارم کے درمیان مخصوص تختہ رکھ کر مجھے چڑھنے میں مدد دے۔ مگر سیاحت کے دوران کچھ ملک یا شہر ایسے بھی ہوتے ہیں، جہاں یہ سہولت نہیں ہوتی۔ اور اگر ہوتی بھی ہے تو ٹرین یا پبلک ٹرانسپورٹ کا عملہ یہ زحمت کرنے سے کتراتا ہے۔

اس طرح کا تلخ تجربہ مجھے آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ افریقی اور ایشیائی ملکوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ میلبورن جیسے جدید شہر کے اسٹیشنوں اور بسوں میں بھی یہ رواج نہیں ہے۔ میں جب پہلی بار وہاں گئی تھی تو بہت مشکل ہوئی تھی۔ میں نے وہاں کی لوکل انتظامیہ کو خط لکھا کہ معذوروں کے لیے یہ انتظام لازماً کرے مگر کوئی اثر نہیں ہوا۔ پھر جب میں نے اپنے بلاگ پر یہ بات لکھی کہ میلبورن شہر میں مجھے کتنی تکلیف ہوئی تو وہاں جو لوگ میرے بلاگ پڑھتے ہیں، انھوں نے اپنی طرف سے درجنوں ریمپ خرید کر اسٹیشنوں پر جا کے رکھوائے تو اس سے ریلوے کے محکمے کو بھی خیال آیا اور پھر ہر ٹرین میں ایک ایسا تختہ رکھوا دیا گیا۔ یہ میری چھوٹی سی جدوجہد کی کامیابی ہے، جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی تھی۔اب میں کوشش کر رہی ہوں کہ بڑے شہروں میں جو ٹرام چلتی ہیں، ان میں بھی ریمپ کی سہولت دی جائے۔ ٹرامز چونکہ ایک مخصوص پٹے پر چلتی ہیں، اس لیے ان کے اسٹاپس پر یہ بندوبست نہیں ہوسکتا۔اس کے علاوہ یہ اتنی اونچی ہیں کہ عام ریمپ سے کام نہیں چل سکتا۔ اس کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کو کوئی خاص اختراع کرنی پڑے گی۔‘
اسٹیسی کسی بھی ملک یا شہر کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے خاص ریسرچ ورک کرتی ہیں۔ وہ انٹرنیٹ اور گوگل میپس کے ذریعے اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جس جگہ جارہی ہیں، وہاں عمارتوں ، سڑکوں، اسٹیشنوں، بس ٹرمینلز ، ٹرینوں اور بسوں میں ان کے لیے آسانی مہیا کی گئی ہے یا نہیں؟

’مجھے مطلوبہ شہر کے عوامی اور تفریحی مقامات سے متعلق پیشگی ریسرچ کرنا ہوتی ہے تاکہ وہاں پہنچنے کے بعد کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرناپڑے۔ میں کوئین اسٹریٹ پر رہتی ہوں، اسے کیفے اور اچھے ریستوراں کی وجہ سے خاص شہرت حاصل ہے۔ مگر اس سڑک پر واقع اکثر بلڈنگیں دو یا تین اسٹیپس اونچی ہیں۔ اب ہوتا یہ ہے کہ میں روزانہ ادھر سے گزرتے ہوئے، اپنے پسندیدہ کھانے شو ونڈوز میں دور سے دیکھتی جاتی ہوں مگر کسی بھی ہوٹل میں جا کر کھا نہیں پاتی کیوں کہ میں وہیل چیئر پر ہوتی ہوں جو اوپر نہیں چڑھ سکتی۔کیفے والے کہتے ہیں کہ ان کی عمارتیں ثقافتی ورثے کے طور پر محفوظ کی گئی ہیں، اس لیے ریمپ بنانے کی گنجائش نہیں ہے۔مگراب میں نے سنا ہے کہ ایسی وھیل چیئرز ایجاد ہو چکی ہیں جو خودکار طریقے سے زینے چڑھ سکتی ہیں۔ اگر یہ مارکیٹ میں آجائیں تو میں سب سے پہلی خریدار ہوں گی۔‘ 
وہ ہنس کر بات پوری کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ جس آسٹریلیا میں جسمانی لاچار لوگوں کے لیے سرکاری طور پر ریمپ کی سہولت میسر نہیں، اسی ملک میں معذور افراد کی شرح اٹھارہ فیصد ہے۔ 
اسٹیسی کو یہ الیکٹرک وہیل چیئر ان کی معذوری کی انشورنس کے طفیل ملی ہے۔

اسے ایک بار چارج کرنے سے یہ چوبیس کلومیٹر تک چلتی رہتی ہے۔ جس سے کسی بھی بڑے شہر میں اسٹیسی پورا دن اچھی طرح گھوم لیتی ہے۔
جسمانی طور پر معذورافراد کی زندگی آسان بنانے کے آسٹریلوی حکومت کے پروجیکٹ میں ریسرچ کے شعبے کے سربراہ جیروم راشیل کے مطابق اس ریسرچ میں انہیں اسٹیسی جیسے بہادر اور باصلاحیت لوگوں کے بلاگس پڑھنے سے زیادہ فائدہ ملا ہے۔ کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں دن رات ان مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن پر وہ تحقیق کر رہے ہیں۔

’پبلک ٹرانسپورٹ جیسا کہ بسوں اور ٹراموں کے فلور اونچے رکھنے کی ٹھوس وجوہات اپنی جگہ،مگر اس سے معذور لوگوں کو جو تکلیف ہوتی ہے، وہ ہمارے معاشرے، ہمارے نظام کا اہم مسئلہ ہے، جسے بہرحال حل کرنا لازمی ہے۔ اس لیے ہم جو اس حوالے سے ورکشاپ اور سیمینار کراتے ہیں، میری گذارش پر اب ان میں معذور افراد کو بھی شریک کیا جاتا ہے اور سفارشات مرتب کرنے سے پہلے ان کو سنا جاتاہے اور ان کی تجاویز کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کو بھی خصوصی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ آپ یہ دیکھیے کہ دو ہزار سال قدیم کولوزیم بلڈنگز میں معذور افراد کے لیے زینے کے ساتھ ریمپ کی سہولت دی جاتی تھی تو ہم آج اکیسویں صدی میں اپنی بلڈنگز میں یہ کیوں نہیں کرسکتے۔‘

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی 
ایک اورمشہوروہیل چیئر ٹورسٹ ایلیزیا کیزیرین بتاتی ہیں کہ ان کے والدین نے انھیں اس طرح تربیت دی ہے کہ وہ اپنی معذوری کے باوجود مہم جوئی اور دنیا کی سیاحت کرنے کے لیے لڑکپن ہی سے پر تولتی رہی ہیں۔ ایلیزیا جب اٹھارہ سال کی ہونے والی تھیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی آنے والی سالگرہ کسی دوسرے ملک میں منائیں گی اور اس کے لیے کسی کو ساتھ نہیں لے جائیں گی۔ یہ ان کے وہیل چیئر ٹریولنگ کے کیریئر کا آغاز تھا۔
’مجھے پتا تھا کہ سیر و سفر میں ایسی طاقت ہے کہ یہ میری سوچ کا دھارا ہی بدل دے گی۔ لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ سیاحت میری سوچ ہی نہیں، زندگی ہی بدل دے گی۔ اور یہی میرا کیریئر بن جائے گی۔ میرے جاننے والے ابتدا میں حیران ہوتے تھے کہ میں کیسے اس معذوری کے ساتھ اکیلی ملکوں ملکوںگھومتی پھرتی ہوں؟ مگر اب انھیں بھی پتا چل گیا ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں جو میرے جیسے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے مجھے خود کو اس قابل بنانا پڑا تھا کہ میں کسی کی مدد کے بغیر سفر کرسکوں۔‘

ایلیزیا کیزیرین ایک سیاحتی سائٹ وہیلیز آراؤنڈ دا ورلڈ کی بانی ہیں ، جس پر وہ اپنی دنیا بھر میں سیاحتی سرگرمیوں کی رپورٹس اور تصویریں اپ لوڈ کرتی رہتی ہیں۔وہ پیدائشی معذور نہیں ہیں بلکہ لڑکپن میں اوریگون میں ہائکنگ کے دوران ایلیزیا ایک پہاڑ سے گر کر حادثے کا شکار ہوگئی تھیں، جس سے عمر بھر کی معذوری ان کا مقدر بن گئی اور وہ وہیل چیئر پر آگئیں۔
’ہم دو بہنیں ہیں اور سیر و سیاحت ہم دونوں کی گھٹی میں ہے۔ہمارے والدین بچپن ہی سے ہمیں گھمانے، ہائکنگ کرانے اور تاریخی مقامات دکھانے کے لیے لے جاتے تھے۔ روزمائیٹ اور کیلیفورنیا کا ’بے ایریا‘ ہمارا پسندیدہ علاقہ ہوتا تھا۔جہاں ہم کیمپنگ بھی کرتے تھے۔

اس طرح سیاحت سے محبت مجھے ورثے میں ملی ہے۔ حادثے کے بعد جب میں سال بھر اسپتال میں تھی تو اس دوران سوچتی رہتی تھی کہ مجھے تو پوری دنیا دیکھنا تھی۔ ابھی تو میں نے اپنے ملک کے کئی تفریحی مقامات نہیں دیکھے کہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئی ہوں۔ آخر میرے خوابوں کا کیا ہوگا؟ میں دل ہی دل میں ان سب مشہور جگہوں کے نام دہراتی رہتی تھی، جہاں جانے اور گھومنے پھرنے کے منصوبے میں نے بنائے ہوئے تھے مگر اب میں مایوس ہوچکی تھی کہ وہاں نہیں جا سکوں گی اور نئے نئے لوگوں سے بھی نہیں مل سکوں گی۔ جلد ہی میں نے اس معذوری کو قبول کرلیا اور خود سے سمجھوتہ کرلیا کہ یہی اب میری نارمل زندگی ہے۔ جب یہ بات میں نے اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھالی تو پھر آنے والی تکلیفیں اور لوگوں کی باتیں اور دیکھنے والوں کی ہمدردی قبول کرنا بھی میرے لیے آسان ہوگیا۔ مگر میرے خاندان اور قریبی دوستوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ،میرا دل بڑھایا اور ہر طرح سے میرا ساتھ دیا۔

انہوں نے ڈاکٹروں ہی کی طرح مجھے اٹھایا بٹھایااور وہیل چیئر پر زندگی کے معمولات نبھانا سکھایا۔ جوتے پہننا، چیئر پر بیٹھنا اور اسے چلا کر مختلف کمروں میں جانا یا دوسری ضروریات پوری کرنا اُس وقت میرے لیے آسان نہیں تھا مگر اب یہ سب مشکل محسوس نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ جب میرے ڈیڈ نے مجھے معمول کی زندگی میں واپس لوٹتے دیکھا تو انھوں نے ہی مجھے تحریک اور ترغیب دی کہ میں سیاحت کا اپنا شوق پھر سے پورا کرنے کے لیے کیوں نہیں سوچتی۔‘
’مگر ڈیڈ! اس حال میں کیسے وہ ممکن ہوگا؟‘۔
’کیوں نہیں ہوسکتا؟ میں نے تمھارے لیے انٹرنیٹ سے کچھ میٹر نکالا ہے، اس کے پرنٹ آؤٹ تمہیں دیتا ہوں، تم پہلے انہیں پڑھ لو۔۔۔پھر ہم اس موضوع پر دوبارہ بات کریں گے۔‘
انہوں نے جو مواد مجھے لا کر دیا، وہ پڑھ کر میری دنیا ہی بدل گئی اور یوں سمجھیں کہ میں ایک بار پھر جی اٹھی۔ ان پیپرز میں دنیا کے مختلف ملکوں کی ان لڑکیوں کا احوال تھا جومعذور ہونے کے باوجود دنیا دیکھتی پھرتی تھی اوراپنے تجربات اور مشاہدات بلاگس یا وی لاگس کے ذریعے دنیا بھر سے شیئر بھی کرتی پھرتی ہیں۔دوسرے دن میں جب میرے ڈیڈ آئے تو میں نے انھیں دیکھتے ہی کہا:
’اچھا تو پھر پہلا ملک کون ساہونا چاہیے، جہاںمجھے جانا چاہیے؟‘۔

یہ بات سن کر وہ ہنس پڑے مگر ساتھ ہی ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آگئے تھے۔
’جو بھی ملک تم پسند کرو، میں سارا انتظام کرا دیتا ہوں۔۔۔ تم بس اپنی تیاریاں کرلو۔‘
اس موقع پر میرے ایک ڈاکٹر نے میری بہت مدد کی جو میرے جیسے مریضوں کو نارمل زندگی کی جانب لانے کے اسپیشلسٹ ہیں۔ وہ مجھے ایئرپورٹ لے گئے اور وہاں پہنچ کر وہ سب کام کرنا سکھائے جو ایک معذور کو ہوائی سفر کرنے کے لیے کرنا پڑتے ہیں۔ یعنی وہیل چیئر پر بیٹھ کر ایئر پورٹ میں کیسے داخل ہوا جائے؟ اپنا سامان کیسے سنبھالا جائے؟ ضروری معلومات لینے کے لیے متعلقہ کاؤنٹر تک کیسے جایا جائے؟ وہیل چیئر سے، اس ہلکی سی ایزل چیئر پرکیسے منتقل ہوا جائے جو ہمیں جہاز میں اپنی مقررہ سیٹ تک لے جاتی ہیں۔ اور اس چیئر سے پھر سیٹ پر منتقل ہوناوغیرہ۔ اس طرح میرے اندر اعتماد آگیا کہ میں عام لوگوں کی طرح سب کچھ کر سکتی ہوں۔ اس مشق کے بعد میں نے تنہاپہلا سفر آسٹریا کے شہر ویانا کا کیا۔ یہ سفر میرے لیے سرخوشی، کامیابی اور نئی نئی منزلیں سر کرنے کا سنگِ میل ثابت ہوا اور اس کامیاب سفر کے بعد ایک ہی سال میں، میں نے دس ملکوں کی سیاحت کرلی اور وہ بھی اکیلے اور وہیل چیئر پر!۔ یوں وہیل چیئر اب میری زندگی۔۔۔ بلکہ میرے جسم کا حصہ بن گئی ہے۔

اب تو اتنا بھی کرلیتی ہوں کہ جہاز تک پہنچنے کے بعد اس میں سوار ہونے اور اپنی سیٹ تک منتقل ہونے میں کسی کی مدد نہیں لیتی۔ اس سیاحت کی ابتدا میں میرا سب سے اچھا دن وہ ہوتا ہے ، جب میں اپنی وہیل چیئر پر کم از کم بیس کلومیٹر تک کسی شہر میں گھومتی ہوں اور مقامی لوگوں سے بات چیت کرتی ہوں۔ اس دوران میں ہر دیکھنے والی جگہ دیکھتی ہوںاور ہر اچھی چیز ٹرائی کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اتنی طویل مشقت سے میری کمر تختہ ہوجاتی ہے مگر میرا دل گھومنے سے پھر بھی نہیں بھرتا۔ اتنی ساری خوبصورتی کو اپنے اندر سمانے کے لیے، جذب کرنے کے لیے کمرکا درد برداشت کرنا کوئی بڑی قربانی تو نہیں نا؟ جب میں نے انسٹاگرام پر وہیلیز آراؤنڈ دا ورلڈ شروع کر کے اپنی وہیل چیئر سیاحت کی پوسٹس شیئر کرنا شروع کیں تو لوگوں نے بہت اچھا ریسپونس دیااور میری طرح کی دوسری لڑکیوں نے بھی اس سے متاثر ہو کر وہیل چیئر ٹورازم شروع کیا۔ اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میری کوششوں کا اتنا اچھا نتیجہ نکل رہا ہے۔ میں اب سب کو کہتی رہتی ہوں کہ زندگی بہت مختصر ہے۔اس کو جیسی ہے، ویسے ہی قبول کیا جائے اور اس کے ہر لمحے کو مناسب طور پر استعمال کرنا ہی اس کا شکر ادا کرنے کے برابر ہے، اورآپ جو معذور بھی نہیں ہیں، وہ کیوں گھر اور دفتر یا کاروبار ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں؟ کمائی میں سے تھوڑی سی بچت کیجیے اور دنیا دیکھنے کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ یہ ایک نئی زندگی ملنے کے مترادف ہوگا۔‘

اور اب ہمارے پڑوسی دیس کی معذور سیاح پرویندر چاؤلہ کی بات کرتے ہیں، جو وہیل چیئر پر سیاحتی ملکوں کی چوتھائی سینچری مکمل کرنے والی ہیں۔ انہوں نے وہیل چیئر کے ساتھ بیک پیکنگ ٹریولنگ کر کے ہمت اور حوصلے کی نئی داستان رقم کی ہے۔ پرویندر چاؤلہ کی عمر پچپن سال ہے اور ان کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ وہ کسی بھی سفر کی پیشگی تیاری یا بکنگس نہیں کرتیں بلکہ محاورے کے مطابق ’منہ اٹھا کر‘ چل پڑتی ہیں۔ کسی بھی شہر پہنچ کر اگر ہوٹل یا مسافر خانے میں جگہ نہ ملے تو کسی مقامی گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر اپنا تعارف کراتی ہیں اور ایک یا دو راتیں ان کے ہاں ٹھہرنے کی گذارش کرتی ہیں۔ اور عموماً ان کی ایسی گزارش قبول کرلی جاتی ہے۔ اس طرح جہاں رہنے، کھانے پینے کا مفت بندوبست ہوجاتا ہے، وہاں مقامی لوگوں کے رہن سہن، خوراک، ان کی ثقافت سے واقفیت ہوتی ہے، وہاں نت نئے مگر اچھے اور ہمدرد افراد سے دوستی بھی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے تائیوان میں پیرا گلائیڈنگ کی ہے اور ان کے بقول، چین جیسے وہیل چیئر ان فرینڈلی ملک کی سیاحت بھی کی ہے۔اس کے ساتھ وہیل چیئر پر بیٹھے، پرویندر نے آدھا من وزنی سامان کا بوجھ اپنی پشت پر بار کر کے کئی ملکوں میں سفر کیا ہے۔ ویسے ان کی ابتدائی زندگی تکلیف دہ امراض سے لڑتے ہوئے انگریزی کے ’سفر’ کے برابر تھی۔جوڑوں کے درد نے انھیں بستر تک محدود کردیا تھا۔ اسی کیفیت میں پرویندر چلنے سے لاچار ہوگئیں۔مگر انہوں نے ذہنی طور پر اپنی معذوری کو قبول نہیں کیااور اسی مضبوط قوتِ ارادی کا کرشمہ ہے کہ وہ موذی مرض کا منہ چڑا کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور ایک کال سینٹر میں ملازمت کرلی۔ وہاں سے چھوڑا تو ایک ڈے کیئر سینٹر میں کام کیا اور پھر اپنی کیٹرنگ سروس شروع کردی۔ اس طرح مختلف کاموں سے بچت کر کے انھوں نے دنیا دیکھنے کی اپنی خواہش پوری کی۔ پہلی بار وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ گل مرگ گئیں۔ وہاں پہاڑوں پر برف کا لطف لیا اور اس کے لیے دوستوں کو زحمت دینے کے بجائے اپنی وہیل چیئر دھکیلنے کے لیے ایک مزدور کر لیا۔

’گل مرگ کا علاقہ میرے لیے جنت تھا اور وہیں میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جس طرح بھی بن پڑا، میں یہ خوبصورت دنیا پوری کی پوری دیکھوں گی۔ اس فیصلے پر میں اٹل رہی۔ نہ گھر والوں کے خدشات کو خاطر میں لائی اور نہ ہی دوستوں کی باتوں پر دھیان دیا۔ گھر واپس آکر میں کئی ٹریول کمپنیوں سے رابطہ کیا اور اپنی جسمانی حالت بتا کر ٹرپ بک کرانے کی کوششیں کی مگر ہر جگہ سے معذرت کی گئی کہ وہ وہیل چیئر کے ساتھ کسی اکیلے سیاح کو کہیں لے جا نہیں سکتے۔ ہاں، اگر اس کے ساتھ کوئی مددگار ہو تو پھر ممکن ہے۔ مگر میں کسی کی مدد کے بغیر اپنے بل بوتے پر سفر کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے بکنگ کا جھنجھٹ چھوڑا اور اپنی مرضی سے، بغیر کسی تیاری کے سفر کا سلسلہ شروع کر دیا۔ میری پہلی منزل ملائیشیا تھی، جہاں میں نے ایسے ہوٹل منتخب کیے، جن میں وہیل چیئر کے ساتھ آنے جانے کی سہولت موجود تھی۔ اس طرح میں نے اپنی زندگی بدل ڈالی۔ ابھی تک میں تریسٹھ ملک دیکھ چکی ہوں۔ اور میرا مقصد یہ رہ گیا ہے کہ میرے پاسپورٹ پر ہر ملک کی مہر لگی ہو۔جب تک یہ مقصد پورا نہیں ہوتا یا جب تک زندگی نے ساتھ دیا، تب تک یہ سفر جاری رہے گا ۔‘
سوشل میڈیا کی سہولت اور طاقت سے متعلق پرویندر چاؤلہ کا کہنا ہے کہ اگر یہ میڈیا نہ ہوتا تو آج وہ سیاح نہ ہوتیں، کیوں کہ انہیں معلوم ہی نہ ہوپاتا کہ ان جیسے لوگ کیسے اپنی آئیڈیل زندگی گزار رہے ہیں۔اس لیے وہ اس میڈیم کی شکر گزار ہیں۔
دنیا بھر میں پرویندر چائولہ، اسٹیسی، ایلیزیااور ولیسیا جیسی سینکڑوں ہزاروں ہیں جو معذوری کے باوجود اللہ تعالیٰ کی اس خوبصورت دنیا کو دیکھنے اور ہم جیسے ’عام‘ لوگوں کو دکھانے کا اہم کام کر رہی ہیں۔ اور دیکھا جائے تو یہی خاص لوگ ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گزشتہ سیزن میں پی ایس ایل ادھوری چھوڑنے کے سوال پر کوشل مینڈس کی خاموشی، میڈیا مینیجر کی مداخلت

امریکا اور ایران ایک میز پر، آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

ایران و امریکا کی 40 سالہ دشمنی کا سفر: دونوں حریف مذاکرات تک کیسے پہنچے؟

سر ظفر اللہ خان سے اسحاق ڈار تک: پاکستان کی خاموش سفارتکار ی کی طویل داستان

عالمی امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار باعث مسرت ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

امریکا اور ایران ایک میز پر، آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

عرب میڈیا سے تعلق رکھنے والی صحافی پاکستانیوں سے متاثر، امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی اہم قرار دیدی

ایران، امریکا کو ایک جگہ بٹھانا بڑی کامیابی ہے، پاکستان دنیا کو کشیدگی سے بچانے کی راہ پر گامزن ہے، جرمن صحافی اسٹیفن شوارزکوف

کالم / تجزیہ

معرکۂ امن، اسلام آباد کی دہلیز پر بدلتی دنیا

اسلام آباد میں آخری اوور

اسلام آباد مذاکرات: لبنان جنگ سب بگاڑ سکتی ہے