امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود ایران کے ساتھ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، جو ایران کے لیے بری خبر ہے، جبکہ امریکی وفد بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران و امریکا کی 40 سالہ دشمنی کا سفر: دونوں حریف مذاکرات تک کیسے پہنچے؟
اسلام آباد میں ہونے والے اہم امریکا ایران مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک تفصیلی اور طویل مذاکرات ہوئے، تاہم اس کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے بری خبر ہے کیونکہ امریکا نے اپنے مؤقف اور شرائط کھل کر سامنے رکھیں، مگر ایران نے انہیں تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایک واضح اور ٹھوس یقین دہانی درکار ہے کہ ایران نہ صرف اب بلکہ مستقبل میں بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
ایران نے ہماری شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا، بدقسمتی سے ہم کسی معاہدے کے بغیر واپس جا رہے ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس pic.twitter.com/UKLLYzNuCC
— WE News (@WENewsPk) April 12, 2026
جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ ایران ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق عزم ظاہر کرے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور نہ ہی ایسے وسائل حاصل کرے گا جو اسے تیزی سے اس قابل بنا سکیں، تاہم اب تک ایسی کوئی حتمی یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اگرچہ معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ کئی اہم اور ٹھوس امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس سے آئندہ مذاکرات کے لیے کچھ بنیاد ضرور قائم ہوئی ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد مسلسل اپنے اعلیٰ حکام سے رابطے میں رہا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پینٹاگون اور نیشنل سیکیورٹی اداروں سے متعدد بار مشاورت کی گئی، تاکہ ہر مرحلے پر حکمت عملی کو واضح رکھا جا سکے۔
شاندار میزبانی پر پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس pic.twitter.com/ZfJ0JHxh6n
— WE News (@WENewsPk) April 12, 2026
انہوں نے اعلان کیا کہ امریکی وفد اب بغیر کسی معاہدے کے واپس امریکا جا رہا ہے، تاہم مستقبل میں بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے اور امید ہے کہ آگے چل کر پیشرفت ہو سکتی ہے۔
جے ڈی وینس نے پاکستان کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف بہترین میزبانی کی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ’حیرت انگیز کام‘ کیا اور مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے پاس اب دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا، ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی میڈیا پر تنقید
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کیا، تاہم حتمی پیش رفت کے لیے ایران کی جانب سے واضح اور عملی یقین دہانی ناگزیر ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکا روانہ، اعلیٰ قیادت نے رخصت کیا
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے اختتام پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے، جہاں انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کے اختتام کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنے وفد کے ہمراہ امریکا واپس روانہ ہو گئے۔ ایئرپورٹ پر انہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے الوداع کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ روانہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے رخصت کیا pic.twitter.com/ebEwYsIfw1
— WE News (@WENewsPk) April 12, 2026
یہ مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم امور، خصوصاً جوہری پروگرام اور علاقائی کشیدگی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم طویل مذاکرات کے باوجود فریقین کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔
امریکی نائب صدر نے روانگی سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیشرفت کے کچھ پہلو سامنے آئے، لیکن بنیادی نکات پر اتفاق نہ ہو سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے اس بات کی ٹھوس اور قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔













