نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے قیام کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ پاکستان رواں سال ستمبر میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹس کی چیئرمین شپ سنبھالنے اور 2027 میں تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کا منتظر ہے، جو علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کے قائدانہ کردار پر اعتماد کا مظہر ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری بیان میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ 25ویں سالگرہ کے اس خوش آئند موقع پر وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے تمام رکن ممالک کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ 2001 میں اپنے قیام کے بعد سے شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھری ہے اور اپنے رکن ممالک کے درمیان علاقائی امن، سلامتی، استحکام، اقتصادی تعاون، رابطہ کاری اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
’شنگھائی اسپرٹ‘ آج بھی ہماری رہنمائی کر رہی ہے
اسحاق ڈار نے کہا کہ تنظیم کی 25 سالہ تکمیل ’شنگھائی اسپرٹ‘ کی پائیدار قوت کی توثیق کرتی ہے، جو باہمی اعتماد، برابری، ثقافتی تنوع کے احترام، مشترکہ ترقی اور تعمیری روابط کے اصولوں کے ذریعے آج بھی ہماری رہنمائی کر رہی ہے۔
پاکستان کا ایس سی او کے ساتھ سفر
انہوں نے کہاکہ ایس سی او میں پاکستان کا سفر بطور مبصر سے شروع ہو کر 2017 میں مکمل رکنیت تک پہنچا، جو کثیرالجہتی تعاون سے پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی اور خطے کی صلاحیت پر ہمارے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان ایس سی او چارٹر کے اصولوں اور مقاصد پر مضبوطی سے کاربند ہے اور بین الاقوامی قانون کے احترام اور خوشگوار ہمسائیگی کے فروغ سے متعلق تنظیم کے مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ستمبر میں چیئرمین شپ، 2027 میں سربراہی اجلاس کی میزبانی
نائب وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان رواں سال ستمبر میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹس کی چیئرمین شپ سنبھالنے اور 2027 میں سربراہی اجلاس کی میزبانی کا منتظر ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کے قائدانہ کردار پر اعتماد اور یقین کا اظہار ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان اقتصادی تعاون کے فروغ، علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے اور عوام کے درمیان باہمی ہم آہنگی کو مزید گہرا کرنے کے لیے مستقبل بین اور عملی اقدامات پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھاتا رہے گا۔
ایس سی او میں پاکستان کا فعال کردار
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ ایس سی او کے کام میں فخر کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی میزبانی کی تھی۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان اس وقت 26-2025 کے لیے ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کی چیئرمین شپ انجام دے رہا ہے۔
’اسی طرح غربت کے خاتمے سے متعلق ایس سی او کے خصوصی ورکنگ گروپ کی مستقل چیئرمین شپ کے تحت پاکستان خطے کے کروڑوں افراد کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔‘
سی پیک علاقائی معاشی انضمام کی مثال ہے
اسحاق ڈار نے کہاکہ پاکستان کا اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع یوریشیائی رابطہ کاری کے لیے ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ایس سی او رکن ممالک کے درمیان بین العلاقائی اقتصادی اور تجارتی انضمام کی ایک کامیاب مثال ہے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف
وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں ایس سی او کے کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دینے والے صفِ اول کے ملک کی حیثیت سے پاکستان دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسی تین برائیوں کے خلاف ایس سی او کے مشترکہ فریم ورک کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
اقتصادی ترقی، ڈیجیٹل جدت اور پائیدار ترقی پر زور
اسحاق ڈار نے کہاکہ سلامتی کے شعبے سے آگے بڑھ کر تنظیم کی اقتصادی ترقی کے لیے کوششیں ایک مضبوط علاقائی معیشت کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔
انہوں نے ڈیجیٹل جدت، توانائی کے تحفظ سے متعلق منصوبوں اور قومی کرنسیوں میں باہمی ادائیگیوں کے فروغ کے لیے ایس سی او کی کاوشوں کو قابل تحسین قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان علاقائی رابطہ کاری، تجارت و سرمایہ کاری، غذائی تحفظ، موسمیاتی لچک، صحت عامہ، تعلیم، ڈیجیٹل جدت اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔
امن، ہم آہنگی اور مشترکہ خوشحالی کا عزم
اپنے پیغام کے اختتام پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ایک ایسے خوشحال مستقبل کا تصور رکھتے ہیں جو سماجی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہو۔
انہوں نے کہاکہ آئیے مل کر کام جاری رکھیں تاکہ اپنے خطے کو آنے والی نسلوں کے لیے امن، ہم آہنگی اور مشترکہ خوشحالی کا مرکز بنایا جا سکے۔













