ضمیر مطمئن ہے، جہاں تھا وہیں کھڑا ہوں: شاہ محمود قریشی

ہفتہ 17 جون 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے ساتھی اراکین کی جانب سے راہیں جدا کرنے کے باوجود اپنی جماعت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

ہفتہ کے روز ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے اپنے مؤقف پر مضبوطی سے کاربند رہنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں جہاں تھا وہیں کھڑا ہوں۔‘

شاہ محمود قریشی کا یہ بیان اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے کئی سیاستدان حال ہی میں سینئر سیاست دان جہانگیر ترین کی قیادت میں نو تشکیل شدہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی ) میں شامل ہوئے ہیں۔ جب کہ دیگر پارٹی اراکین 9 مئی کے واقعات کے بعد متبادل آپشنز تلاش کر رہے ہیں یا پارٹی سے خود کو دور کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق اپنے خلاف مقدمات کی سماعت کے بعد ملتان کی سیشن عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے جہاں تھے آج بھی وہاں ہی ہیں۔

 پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین نے اس سے قبل جہانگیر ترین کی پارٹی کے تاخیر سے اعلان پر تنقید کرتے ہوئے اسے ‘ڈیڈ آن ارائیول’ قرار دیا تھا۔

ملتان میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ’ میرا ضمیر مطمئن ہے اور میرے ہاتھ بھی صاف ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کے خلاف ملتان میں توڑ پھوڑ سے متعلق 5 من گھڑت مقدمات درج کیے گئے اور ایف آئی آر میں درج 13 الزامات میں سے کوئی بھی درست ثابت نہیں ہوا۔

کیسز کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جس دن یہ واقعات ہوئے اس روز وہ ملتان میں بھی موجود نہیں تھے۔ شہر میں اپنے خلاف حکومتی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ میں کچھ خوف خدا ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ مجھے اسلام آباد میں گرفتار کیا گیا پھر اڈیالہ جیل بھیجا گیاجب کہ مقدمات ملتان میں درج ہوئے بقول ان کے ان جھوٹے مقدمات سے انتظامیہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدالت نے انہیں قبل از گرفتاری ضمانت دے دی ہے۔ ’میں کسی توڑ پھوڑ میں ملوث نہیں تھا اور نہ ہی میں اس کے حق میں ہوں۔’

انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ 40 سالوں میں صرف حب الوطنی کی سیاست کی ہے، بطور وزیر خارجہ میں نے دنیا بھر میں پاکستانی اداروں کا دفاع کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے قریشی نے کہا کہ مجھے اطمینان ہوا کہ ایسے جج بھی ہیں جو قانون کے مطابق میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ جسٹس میاں گل حسن نے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) قانون کے تحت شاہ محمود قریشی کی گرفتاری کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا تھا اور ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط

گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟