وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے پاکستان کو قدرتی حسن سے مالا مال خطہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لیے بیش بہا نظارے پیش کرتا ہے جو فطرت کے ساتھ جڑے رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ہفتہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ کے ساحل سمندر اور اس سے جڑے قدرتی حسن کے نظارے اور ریتلے ٹیلوں کو دکھایا گیا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان نے ویڈیوکے ساتھ ایک تحریر بھی ٹویٹ کی جس میں انہوں نے پاکستان کے قدرتی حسن کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’ پاکستان قدرتی حسن کے لامحدود تحفوں سے مالا مال ہے، جس میں برف سے ڈھکے پہاڑوں سے لے کر انتہائی ریتلے ساحل شامل ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ قدرت کے یہ تحفے ان لوگوں کے لیے بہت کچھ ہیں جو فطرت کے ساتھ جڑے رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں واقع ’سپات بیچ‘ ان دلکش مقامات میں سے ایک ہے، جو قدرت کے حقیقی رنگ پیش کرتا ہے۔
شہباز شریف کی طرف سے پوسٹ کی گئی ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ ’ جہاں دنیا کی توجہ اکثر مقبول سیاحتی مقامات کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے وہیں پاکستان کے شمالی علاقوں میں اب بھی قدرتی حسن کے ایسے خزانے چھپے ہوئے ہیں جو آج بھی دریافت نہیں ہوئے۔
Pakistan is blessed with boundless gifts of natural beauty, ranging from majestic snow-capped mountains to exquisite sandy beaches. It has much to offer to those who have the appetite to gel with nature. Among these captivating destinations is Sapat Beach, a true marvel nestled… pic.twitter.com/LCXF2yLNGK
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) July 22, 2023
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع ‘سپات بیچ’ ایک ایسا غیر معروف ساحل ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
کراچی سے تقریباً 200 کلومیٹر اور کنڈ ملیر ساحل سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس بیچ تک پہنچنے کے لیے تھوڑی سی محنت درکار ہوتی ہے۔ ’سپات بیچ‘ کی سب سے دلکش خصوصیت مسحور کن چٹانوں کی قدرتی ترتیب ہے۔ خوبصورت چٹانوں کا یہ سلسلہ بوجیکو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ خوبصورت مگر انوکھی چٹانیں ساحل سمندر کے کناروں سے نکلتی ہیں، جو ساحل سمندر کی جمالیاتی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کر دیتی ہیں۔

’سپات بیچ ‘ کو اکثر غاروں کا ساحل بھی کہا جاتا ہے، قدرتی کٹاؤ سے بنی یہ غاریں اس جگہ کی زمینی تاریخ میں ایک دلچسپ جھلک پیش کرتی ہیں۔
دن کے اُجالے میں سمندر کا نیلگو پانی دل و دماغ کو ایسا مسحور کن لطف عطا کرتا ہے کہ آنکھیں موند کر قدرت کے نظاروں کو دل و دماغ سے جھانکنے کا من کرتا ہے۔ اس مقام کی سیاحت کے لیے آنے والوں کو یہاں کا انتہائی صاف و شفاف چمکتا پانی تیرنے، غوطہ لگانے کی دعوت دیتا نظر آتا ہے۔ اس کی ساحل سے ٹکراتی بے خطر اور بے عیب شفاف موجیں نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو غوطہ لگانے پر مجبور کرتی ہیں۔
بلوچستان کا ’سپات بیچ‘ ماہی گیری کے لیے بھی ایک مقبول ترین مقام ہے، جہاں مقامی ماہی گیروں کو سمندر میں اپنا جال ڈالتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جس سے علاقے میں سمندری سرگرمیوں کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
بلوچستان کے ’سپات بیچ‘ کی ایک اور دلکش بات یہ ہے کہ جب رات ہوتی ہے تو یہاں کچھ مزید جادوئی نظارے رونما ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
پانی میں موجود مائیکرواسکوپک جاندار رات کی تاریکی میں ایک ایسی مدھم نیلی روشنی خارج کرتے ہیں، جس سے ایسا لگتا ہے، جیسے آسمان سمندر میں اتر آیا ہو۔ ان سمندری جانداروں کے بدن سے پھیلتی یہ روشنیاں اندھیرے کو بھی ایک سحر انگیز نظارے میں تبدیل کر دیتی ہیں۔

بد قسمتی سے ان قدرتی شان و شوکت والے فطری حسن کے راز سموئے نیلگوں ساحل کو بہت کم لوگ جانتے ہیں، اس کی ایک خاص وجہ یہاں کے پر خطر راستے بھی ہیں۔ یہاں نقل و حمل کے محدود ذرائع کی وجہ سے کم سے کم سیاح اس جانب رُخ کرتے ہیں۔ ساحل کی قدیم خوبصورتی تو برقرار ہے لیکن یہاں پہنچنے کے لیے ایک مقامی گائیڈ کی خدمات حاصل کرنا قدرے بہتر رہے گا جو پتھریلے علاقے میں سفر کرسکتا ہو۔
کہنے والے کہتے ہیں سفر تو ایک چیلنج ہے لیکن اس کے انعامات کے طور پر نظارے لامحدود ہیں۔
قدرتی رعنائیوں سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ’سپات بیچ‘ کو دیکھ کر اس تک نہ پہنچنے کا افسوس دل میں موجود ہی رہتا ہے ۔ لیکن جو اس وقت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے وہ یقیناً اس کی دل کو چھونے والی یاد ہمیشہ دل، دماغ اور آنکھوں میں محفوظ کر لیتے ہیں۔

’سپات بیچ ’ پر پہنچیں گے تو یقیناً یہ آپ کو اپنی قدرتی خوبصورتی میں ڈوبنے کی دعوت دے گا۔ اگر آپ بھی ایک غیر معمولی اور ناقابل یقین قدرتی نظارے کو اپنے دل، دماغ اور آنکھوں میں عمر بھر کے لیے محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو یقیناً ’سپات بیچ ‘ پر پہنچیں اس پر آپ کوکبھی افسوس نہیں ہوگا۔