پی آئی اے کو کیسے بچایا جاسکتا ہے؟

منگل 25 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے 21 جولائی کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’پی آئی اے کو سب سیاسی جماعتوں نے ضرورت سے زیادہ سرکاری ملازمین سے بھر کر رکھ دیا ہے، اگر پی آئی کی بہتری کے لیے کام نہ کیا گیا تو یہ 1 سے 2 سال تک مکمل طور پر بند ہو جائے گی‘۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ڈائریکٹر جنرل سول ایسویشن اتھارٹی حسن بیگ نے بتایا کہ سنہ 2016 میں ایک قانون بنا تھا جس کے تحت پی آئی اے کو پرائیویٹ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پی آئی اے کو پہلی فرصت میں پرائیویٹائز کردیا جائے تا کہ اس کی کارکردگی بہتر ہو اور سول ایسویشن کا جو نیویارک میں ریسٹورنٹ اور پولٹری کا بزنس ہے اس کی بجائے پی آئی اے کی بہتری پر دھیان دیا جائے۔

حکومت کو تمام اسٹیٹ کمپنیوں کو پرائیویٹ کر دینا چاہیے کیوں کہ حکومت کا کام صرف انہیں ریگولیٹ کرنا ہے اس لیے حکومت اپنا کام کرے اور ٹیکسز وصول کرے۔

حسن بیگ نے بتایا کہ پی آئی کے پاس تقریبا 55 جہاز ہیں جن میں سے 25 کے قریب جہاز فنکشنل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی آئی کے ملازمین کی تعداد 13 سے 14 ہزار تک ہے جو کہ ضرورت سے بہت زیادہ ہے اور جسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پی آئی کے مستقبل کا انحصار صرف پرائیویٹائزیشن پر ہے اور اسی صورت میں یہ چلتی رہے گی لیکن اگر یہ گورنمنٹ سیکٹر میں رہی تو آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی کیوں کہ پاکستان کے معاشسی حالات اور پاکستان پر جتنا قرضہ ہے اسے مد نظر رکھتے ہوئے مجھے نہیں لگتا کہ حکومت مستقل سبسڈی دے پائی گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی آئی کو چلتا اور ترقی کرتے دیکھنا ہے تو پھر اسے پرائیویٹائز کرنا ضروری ہے چاہے وہ پرائیوٹائزیشن 100 فی صد کی جائے یا 50 فی صد مگر یہ کرنی ضرور پڑے گی کیوں کہ مینیجمنٹ بدلنے میں ہی پی آئی اے کی بھلائی ہے۔

پی آئی اے کے سابق جنرل مینیجر پبلک ریلیشنز بشیر احمد چوہدری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی کی بہتری کا واحد حل ایمانداری سے کام کرنے میں ہی ہے اسے پرائیویٹ کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔

بشیر احمد نے سابق ایئر مارشل ارشد ملک کے حوالے سے کہا کہ ’وہ خود تو آئے اور اپنے ساتھ 14 بندے مزید لے کر آئے جو مختلف عہدوں پر فائز ہوئے اور وہ تمام پروفیشنل بھی نہیں تھے۔ ان سے کسی قسم کا سوال نہیں کیا گیا کہ وہ کیا کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جب لوگ ہی پروفیشنل نہیں ہوں گے تو کوئی بھی ادارہ ہو وہ تباہی کی طرف ہی جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مینیجمنٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ورنہ پی آئی اے ختم ہوتی چلی جائے گی اور اگر اسے پرائیویٹائز کریں گے تو اس کی پہچان ختم ہو جائے گی۔

بشیر احمد نے کہ پی آئی اے کے جو اپنے ملازمین ہیں انہیں اگے آنے کا موقع دیا جانا چاہیے کیوں کہ وہی اس کو بہتری کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ پر لوگ بھرتی کیے جائیں تو 2 سال کے اندر پی آئی اے کی کارکردگی بہتر ہوجائے گی۔

بشیر احمد کا کہنا تھا کہ ’مالٹا، سنگاپور، ایمیریٹس ایئر لائنز ہم نے بنوائی ہیں اور آج ان کو دیکھیں کہ وہ کتنی ترقی کر چکی ہیں اور پی آئی کن حالات سے دوچار ہے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کے فضائی حملوں میں کابل کے اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے دعوؤں کی پاکستان کی جانب سے تردید

پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ

انجری کے بعد واپسی مشکل، نیمار ایک بار پھر برازیل کے اسکواڈ سے باہر

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا