ایران کا نئے القاعدہ سربراہ کی ملک میں موجودگی سے انکار، امریکی دعویٰ غلط قرار

جمعہ 17 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 ایران نے القاعدہ کے نئے سربراہ سیف العدل کی ایران میں موجودگی کے امریکی دعوے  کو مسترد کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے دعویٰ کے رد عمل میں ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ القاعدہ رہنما سیف العدل کے ایران میں موجود ہونے کا امریکی دعویٰ غلط ہے، القاعدہ رہنما کے بارے میں خبریں ایران سے جوڑنا مضحکہ خیز ہے۔

 امیرعبداللہیان کا کہنا تھا کہ القاعدہ اور داعش کو پیدا کرنے والے ہی پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی محکہ خارجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران میں مقیم مصری نژاد سیف العدل کو القاعدہ کا نیا سربراہ بنایا گیا ہے۔ وہ بلامقابلہ سربراہ مقرر ہوا ہے

امریکی محکمہ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ اور امریکی اندازے کے مطابق القاعدہ کا نیا سربراہ ایران میں موجود ہے۔ ایران کے القاعدہ رہنمائوں کی محفوظ پناہ گاہ ہونے کی یہ ایک اور مثال ہے۔

واضح رہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا نیا سربراہ 62 سالہ سیف العدل القاعدہ کا پرانا گارڈ اور مصری اسپیشل فورسز کا سابق لیفٹیننٹ کرنل ہے۔ امریکا نے اس کے سر کی قیمت دس ملین ڈالر لگا رکھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا