بچوں میں کینسر سے متعلق آگاہی والدین کے لیے بہت ضروری ہے۔ اگرچہ بچپن میں بہت سی بیماریاں وائرس اور دیگر عام مسائل کی وجہ سے ہوتی ہیں، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی بھی وجہ سے کینسر میں مبتلا ہو جائیں۔
اس لیے والدین کو ان علامات سے آگاہ ہونا بہت ضروری جو کینسر کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ علامات درج ذیل ہیں:
انفیکشن، وزن کا کم ہونا، بھوک نہ لگنا، سر درد اور ایسا طویل بخار جس کی وجہ معلوم نہ ہوسکے۔
ماہرین صحت کے مطابق اگر یہ علامات لمبے عرصے تک برقرار رہیں تو فوری طور پر متعلقہ ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ بچوں میں کینسر قابل علاج ہے تاہم بچوں میں کینسر کی تشخیص کسی چیلنج سے کم نہیں ہے کیونکہ بچوں میں کینسر کی علامات اکثر عام بیماری سے مشابہ ہوتی ہیں۔
اس لیے اکثر بچوں میں کینسر کی تشخیص ہونے میں 6 سے 8 تاخیر ہو جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ خاندان اور عام معالجین میں کینسر سے متعلق آگاہی میں کمی اور غلط تشخیص ہے۔
کینسر کی سب سے عام اقسام میں لیوکیمیا (Leukemia)، لیمفوماس (lymphomas)، مہلک اپیتھلیل نیو پلاسمز(epithelial neoplasms
lymphoma)، ریڑھ کی ہڈی کے ٹیومر اور گردے کے ٹیومر شامل ہیں۔
بچوں میں لیوکیمیا (Leukemia) اور ریڑھ کی ہڈی کے ٹیومر عام ہیں۔ بچوں میں حال ہی میں کینسر کی نئی قسم لیمفوما () تشخیص ہوئی ہے۔
والدین کو اپنے بچوں کی صیحت میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ رہنا بہت ضروری ہے۔ جیسے کہ جسم پر غیر معمولی گانٹھوں کا بننا، وزن کا کم ہونا، تھکاوٹ وغیرہ۔
بچوں میں کینسر کی ابتدائی تشخیص اس کے علاج میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے والدین کو ان علامات کے بارے میں محتاط رہنا ضروری ہے۔
ہندوستان ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق بچوں میں کینسر کی تشخیص میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے درجہ ذیل علامات کو پہچاننا ضروری ہے:
غیر واضح بخار جو ہفتوں تک جاری رہے۔
پیلا پن اور مسلسل تھکاوٹ جو کہ بچوں خون کی سرخ خلیات کم ہونے کی نشان دہی ہے۔
بلاوجہ ناک اور مسوڑھوں سے خون آنا
گردن اور بغلوں میں غیر معمولی گانٹھوں کا بننا یا سوجن ہونا
ٹانگوں میں درد اور لنگڑے پن کی شکایات
صبح کے وقت سر میں بار بار درد ہونا جس سے اُلٹیاں آتی ہو۔
آنکھوں میں سفید نشانات نمودار ہونا جو روشنی پڑنے سے چمکتے ہیں۔
مذکورہ بالا علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ماہر اطفال سے سے مشورہ کرنا چاہیے۔

















