میں نگران ہوں کسی اور کا ۔۔۔۔۔

بدھ 13 ستمبر 2023
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عمران خان کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی تمام تر ناکامیوں اور نامرادیوں کا طوق اپنے محسنوں کے گلے میں ڈال دیا۔ شجر کی جس شاخ پر بیٹھے اسی کو خنجر کی نوک پر رکھ لیا۔ نتیجہ اس کوشش کا وہی نکلا جو اس طرح کی مہم جوئی کا ہوتا ہے۔ نہ شاخ رہی نہ خنجر بچا  اور نہ ہی خنجر چلانے والا۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ایسے محسن کش لوگوں کے لیے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ اب نہ کوئی جنرل باجوہ کو الزام دے رہا ہے، نہ جنرل فیض کے کوئی لتے لے رہا ہے، صرف عمران خان ہی کا نام عدالتوں کی تاریک گزر گاہوں میں گونج رہا ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ عمران خان نے جن کے نمبر بلاک کیے تھے اب اگر وہاں کال بھی کریں تو پیغام یہی ملتا ہے کہ ’اب آپ کو مطلوبہ سہولت میسرنہیں، اب آپ کے لاڈلے پن کا دور بیت گیا، اب آپ کے پیروں تلے سے سرخ قالین کھینچ لیا گیا ہے‘۔

اب آپ ہیں، ضمانتوں کی درخواستیں ہیں، نیب کے افسران ہیں، جیل کی بی کلاس کے مطالبے ہیں اور قید وبند کی صعوبتوں کی داستان ہے۔

ایک لمحے کو سوچیں اگر عمران خان جنرل باجوہ کو برے برے ناموں سے نہ پکارتے ، ان پر امریکی غلامی کے الزامات نہ لگاتے اور جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی رکھنے کی ضد نہ کرتے تو آج بھی خان صاحب اقتدار کے ہنڈولے میں جھول  رہے ہوتے اور  متحدہ اپوزیشن عمران خان کی منشا کے مطابق جیل میں سڑ رہی ہوتی۔

صدر عارف علوی کا معاملہ بھی مختلف نہیں۔ ساری بساط کسی اور نے سجا کر دی۔ شاہ کی نشست پر کسی اور نے بٹھایا، ایوان صدر میں کسی اور کمپنی کے تعاون سے براجمان ہوئے۔ اور اب مدت ختم ہونے کے بعد، آئینی طور پر اختیارات سلب ہونے کے بعد اچانک انتخابات کی تاریخ کا غلغلہ ایسے مچا دیا کہ جیسے آئین کے واحد محافظ وہی بچے ہیں۔ ووٹ کی عزت کے واحد علمبردار وہی زندہ ہیں۔

اس اچانک ہڑبونگ میں صدر مملکت بھول گئے کہ وہ کیسے اس منصب جلیلہ پر فائز ہوئے تھے۔ وہ بھول گئے کہ کس طرح انہوں نے کراچی میں ٹخنوں ٹخنوں تک بہتے پانی میں احتجاجاً کشتی نکال لی تھی، کس طرح عمران خان کو پی ٹی وی  اور پارلیمنٹ پر چڑھائی کی نوید سنائی تھی، کس طرح صدر کے عہدے کو استعمال کر کے سندھ کے گورنر ہاؤس میں اپنے بیٹے کے کاروبار کی ترویج کی تھی۔

 جمہوریت کے حالیہ چیمپئن عارف علوی کی یادداشت ان سارے معاملات میں دھندلا سی جاتی ہے، پھر الیکشن کا لفظ ذہن میں آتے ہی ایک فلمی جھٹکے سے ان کی یادداشت واپس آ جاتی ہے۔

صدر عارف علوی کو اچھی طرح علم ہے کہ آج جس مسند پر وہ بیٹھے ہیں یہ منصب انہیں عمران خان کی وجہ سے نہیں ملا لیکن چونکہ اب اس عہدے کی معینہ مدت ختم ہو چکی ہے اور آئینی انتظام کی وجہ سے وہ صدارتی محل میں براجمان ہیں تو ان کے اندر پارٹی ورکر والی سرشت بیدار ہوئی ہے۔ اب پھر جلاؤ گھراؤ کی یاد انہیں ستا رہی ہے۔ اب پھر دھرنوں اور احتجاجوں کی طرف ان کا دل مائل ہو رہا ہے کیونکہ اب محسن کشی کا موسم ایوان صدر میں بھی آ چکا ہے۔

پی ٹی آئی ہو، عمران خان ہوں یا عارف علوی سب نے اپنے محسنوں کو مایوس کیا۔  المیہ یہ ہے کہ ایسے محسن کش ہر زمانے میں رہے ہیں اور گماں یہی ہوتا ہے اگلے زمانوں میں محسنوں کو ایسے ہی محسن کشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ ریت روایت ٹوٹتی نطر نہیں آ رہی۔ یہ رسم، یہ رواج بدلتا دکھائی نہیں دے رہا۔

اب آ جائیں نگران حکومت کی جانب۔ کتنا سہانا خواب دیکھا تھا کہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت ہو، صاف ستھرے لوگ ہوں، الیکشن وغیرہ کا کوئی ٹنٹا ہی نہ ہو، نہ ووٹ پڑیں نہ نعرے لگیں، نہ پوسٹر چھپیں، نہ جلسے ہوں، نہ دھاندلی کا شور مچے، نہ حلقوں میں برادریوں کا زور پڑے۔ بس سارے ملک سے اچھے اچھے چھانٹ کر لوگ جمع کیے جائیں جو انگریزی اچھی بولتے ہوں، سوٹ ٹائی لگاتے ہوں، چھری کانٹے سے جیم ڈبل روٹی کھاتے ہوں۔

یہ خواب بھی پورا ہوا۔ ایک طرف پھر کاکڑ فارمولا آزمایا گیا جس کے نتیجے میں پہلے بھی کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں آیا تھا، اب بھی کسی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔

جس طرح ارباب بست و کشاد عمران خان کی ہٹ دھرمی، عارف علوی کی شرارتوں سے تنگ آ گئے ہیں، اسی طرح نگرانوں سے اکتا جانے کا لمحہ بھی قریباً قریباً آن پہنچا ہے۔ وہ جن کے آ جانے سے منہ پرآگئی تھی رونق، اب انہیں دیکھ کر طبیعت میں الجھن سی پیدا ہونے لگی ہے۔

قصور نگرانوں کو لانے والوں کا بھی ہے۔ ابھی نگران کابینہ کے وزرا یہ طے کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کون سی گاڑی گھر کے استعمال میں رہے گی، کس گاڑی پر بچے پکنک منایا کریں گے اور کس گاڑی پر انہوں نے فل پروٹوکول کے ساتھ فراٹے بھرنے ہیں۔ ابھی تو یہ معاملات طے ہو رہے ہیں کہ ٹی اے ڈی اے میں کس کی،  کتنی بچت ہو رہی ہے، بیرون ملک دورے کیسے نصیب میں لکھے جاسکتے ہیں؟ جہاز کا ٹکٹ فرسٹ کلاس ملے گا یا بزنس کلاس پر اکتفا کرنا پڑے گا؟ ابھی سے اگر کارکردگی کے سوالات اٹھنے شروع ہو جائیں گے تو یہ ان کے منصب سے نا انصافی ہوگی۔

بعض نگرانوں نے اس مسئلے کا حل اچھا نکالا کہ اپنے چہرے کا رخ ارباب بست وکشاد کی جانب کر دیا۔ وہاں سے جو ارشاد ہوا چند لمحوں بعد اسی کو مختلف الفاظ میں کہہ دینے کو نوکری سمجھا۔ 9 مئی سے لے کر معیشت کی بحالی تک کے سارے بیانات جو اوپر سے آئے انہیں ’رٹو طوطے‘ کی طرح دہرا دینا ہی اپنے فرائض منصبی کی تکمیل جانا۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ ان کا کام لفظوں کو دہرانا نہیں محکموں کو بہتر کرنا ہے۔

اب ارباب بست وکشاد عجب مخمصے میں ہیں کہ اگر نگرانوں سے کارکردگی کا پوچھتے ہیں تو جواب صفر ہے اور اگر کارکردگی کے لیے زیادہ زور ڈالتے ہیں تو کہیں یہ نہ ہو کہ آج سے چند ماہ کے بعد انہی میں سے چند لوگ عمران خان اور عارف علوی کی طرح اسی شجر کو نوک خنجر پر نہ رکھ لیں جس پر وہ آج کل براجمان ہیں۔

مستند خبروں، ویڈیوز اور تجزیوں کے لیے وی نیوز کا واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp