بھتہ خور اور دہشتگرد خواتین کے نام پر سمیں استعمال کرتے ہیں، سی ٹی ڈی

جمعہ 27 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں بھتہ خور، دہشتگرد اور ان کے سہولت کار خواتین کے نام پر سمز استعمال کرنے لگے، دہشتگردی کی بیشتر وارداتوں میں افغان دہشتگردی ملوث پائے گئے ہیں۔

انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) کے مطابق خیبر پختونخوا میں بھتہ خوروں کے زیر استعمال موبائل سمز زیادہ تر خواتین کے نام پر رجسٹرڈ ہیں، بھتہ خود بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، دیگر عوامی سہولیات یا امدادی اسکیموں کی آڑ میں خواتین سے سمز کی رجسٹریشن کے لیے انگوٹھے لگوا لیتے ہیں۔

سی ٹی ڈی کے مطابق سمیں کم تعلیم یافتہ یا پنجاب اور سندھ کے دیہات کی خواتین کے نام پر نکلتیں ہیں، خواتین کو علم بھی نہیں ہوتا اور ان کے نام پر سمیں بھتہ خوری یا دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ اس بابت پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی اور ایف آئی اے کو آگاہ کردیا گیا ہے، نادرا حکام سے ایسے شناختی کارڈ کو بلاک کرنے کے حوالے سے رابطہ کیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں افغانی باشندے ملوث پائے گئے ہیں، خودکش حملہ آور ہو یا دہشت گردوں کی رہنمائی ، بھتہ خوری ہو یا سہولت کاری سب میں افغانی ملوث ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا جونیئر کھلاڑیوں کو اہم مشورہ

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟