الیکشن تاخیر از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے لارجز بینچ معاملے پر پاکستان بار کونسل کے بعد سندھ بار کونسل کے مطالبات بھی سامنے آ گئے ہیں، سندھ بار کونسل نے بینچ میں سینئر ججز کی عدم شمولیت پر تحفظات ظاہر کر دیے،سندھ بار کونسل نے سپریم کورٹ سے معاملے پر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کردیا ہے۔
نمائندہ وی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں الیکشن تاخیر کیس کے بینچ تشکیل کے معاملے پر سندھ بار کونسل نے سینئر ججز کی عدم شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سندھ بار کونسل کی جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کی عدم شمولیت پر تشویش اور تحفظات ہیں، بار کونسل نے ہمیشہ چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کے اختیارات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو خود ہی بینچ سے الگ ہوجانا چاہئے۔
سندھ بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس عوامی اور سیاسی نوعیت کے کیسز میں شفافیت کو یقینی بنائیں، اہم کیسز میں مخصوص بینچ کی تشکیل کا تاثر ذائل ہونا چاہئے، حالیہ واقعات کے بعد پیدا ہونے والا تاثر ختم ہونا چاہئے۔
پاکستان بار کونسل کے مطالبات
اس سے قبل پاکستان بار کونسل نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کو شامل کرتے ہوئے سینئر ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کا 9 رکنی بینچ تشکیل دینا چاہیے۔
پاکستان بار کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا ہے اس اقدام سے غیرجانب دار اور شفاف تصور بن جائے تاکہ عوام اور وکلا برادری پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ کے اعلان کی آئینی ذمہ داری اور اختیار کے تعین کے اہم معاملے پر بینچ کی تشکیل پر سوال نہ کرسکے۔
پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کو رضاکارانہ طور پر اہم معاملے کی سماعت کے لیے بینچ کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔
پی ڈی ایم کی سپریم کورٹ میں درخواست
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی ڈیم ایم حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں نے بھی سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کرائی ہے، پی ڈی ایم نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات پر ازخود نوٹس کیس میں 9 رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے انہیں بینچ سے الگ کرنے کی استدعا کی ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن تاخیز از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے لارجز بینچ میں سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے : حکومتی اتحاد نے جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ سے الگ کرنے کی استدعا کر دی