سپریم کورٹ کل ایک ایسے مقدمے کی سماعت کرنے جا رہی ہے جس میں پشاور کے شہری حاجی ادریس اعوان نے مٹھائی اور بیکری آئٹمز کی قیمتوں کے تعین کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ درخواست گزار نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہوئی ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نےمٹھائیوں اور بیکری آئٹمز کی قیمتیں کنٹرول کرنے کو انتظامی معاملہ قرار دے کر درخواست نمٹا دی تھی۔ چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کرے گا جس کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کے پی سمیت فریقین کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔
اس طرح کے عجیب و غریب مقدمات پاکستان کی عدالتوں میں دائر ہوتے رہتے ہیں اور اکثر اوقات عدالتیں اس طرح کے مقدمات میں سخت آبزرویشنز بھی دیتی ہیں۔ چلیں اس حوالے سے ماضی میں کچھ ایسے ہی مقدمات کا جائزہ لیتے ہیں۔
جب سموسے کی قیمتوں کے تعین پر سو موٹو نوٹس لیا گیا
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سو موٹو نوٹس لینے کے حوالے سے بہت مشہور تھے اور انہوں نے بطور چیف جسٹس سب سے زیادہ 79 سو موٹو نوٹس لیے تھے جن میں ایک سو موٹو سموسے کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے بھی تھا جس پر متعلقہ اتھارٹیز سے جواب طلب کیا گیا تھا۔
جب خراب ریموٹ کنٹرول کا مقدمہ سپریم کورٹ پہنچا
ستمبر 2016 میں ایک وکیل محمد اکرم ملک اپنے ٹی وی کا ریموٹ خراب کرنے پر مکینک کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے۔
اکرم ملک کے ٹی وی کا ریموٹ احسان رقیب نامی مکینک نے مبینہ طور پر خراب کر دیا تھا جس کے لیے انہوں نے کنزیومر عدالت سے رجوع کیا اور جلد فیصلہ نہ ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا جس نے کنزیومر عدالت کو اس معاملے کے تصفیے کے لیے 45 دن کا وقت دیا تھا۔
تاہم 45 دنوں میں فیصلہ نہ ہونے پر درخواست گزار وکیل نے سپریم کورٹ کا رخ کرلیا جہاں ایک موبائل فون کمپنی کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے درخواست گزار کو ریموٹ کنٹرول کے خراب ہونے پر مکینک کی جانب سے 5 ہزار روپے ہرجانہ پیش کیا تو عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔
اداکارہ عتیقہ اوڈھو سے شراب برآمدگی کا مقدمہ
جون 2008 میں جب معروف اداکارہ عتیقہ اوڈھو اسلام آباد سے کراچی کے لیے روانہ ہو رہی تھیں تو ایئرپورٹ حکام کو ان کے سامنے سے مبینہ طور پر 2 شراب کی بوتلیں ملیں جو کہ ضبط کر لی گئیں اور اداکارہ کو جہاز پر سفر کی اجازت دے دی گئی۔
لیکن جب یہ خبر اخبارات میں چھپی تو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس پر سو موٹو نوٹس لیا اور عتیقہ اوڈھو پر مقدمہ قائم کیا گیا جس کے لیے انہوں نے راولپنڈی کی عدالتوں میں 100 سے زائد پیشیاں بھگتیں اور بالآخر سنہ 2020 میں عدالت نے عدم شہادت کی بنیاد پر انہیں بری کر دیا۔
جب لفظ پروین کے استعمال پر سو موٹو نوٹس لیا گیا
مئی 2007 میں سپریم کورٹ نے سو موٹو نوٹس لیتے ہوئے معروف گلوکار ابرارالحق کو عدالت طلب کر لیا تھا کہ ان کے گانے ’نی پروین بڑی نمکین‘ سے لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔
اس وقت متحدہ مجلس عمل کے ایم این اے فرید احمد پراچہ نے اس گانے پر کھڑے ہونے والے تنازعے پر بحث کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد بھی پیش کی تھی۔














