17 مرتبہ وزیر رہا، لیکن مجھے ٹکٹ کے قابل نہیں سمجھا: شیخ رشید

ہفتہ 13 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سربراہ عوامی مسلم لیگ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 17 مرتبہ وزیر رہا، بعض لوگوں نے مجھے ٹکٹ کے قابل نہیں سمجھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرقوم کے نام اپنے پیغام میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ زندگی میں جتنی تکلیفیں اٹھائیں لیکن موجودہ چھ 7 ماہ کی بڑی تکلیفوں کا سوچ بھی نہیں سکتا، میں نے 40 دن کا چلہ کاٹا، غاروں میں رہا تاکہ ایک شخص کی فیملی اور اہلیہ کے خلاف 164 کا بیان جاری (نہ) کروں۔

انہوں نے کہا کہ میرے گھر توڑے گئے، ہر خاندان کے فرد کے ساتھ زیادتی ہوئی مگر میں ڈٹا رہا، آج بھی ڈٹا ہوں۔ 17 مرتبہ وزیر رہا، بعض لوگوں نے ٹکٹ کے قابل نہیں سمجھا، ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیا جو رات کی فلائیٹ سے لندن اور امریکا سے آئے، لیکن میں اپنی دوستی نبھاؤں گا۔ جان دے دوں گا لیکن دوستی پر حرف نہیں آنے دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ اصولی آدمی ہوں، قوم کو بتانا چاہتا ہوں میں امتحان میں پاس ہوا جھکا نہیں اورسچ کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا، میں اپنی بھابی کا جنازہ نہیں پڑھ سکا۔ عوام کا امتحان ابھی باقی ہے۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ حلقہ این اے 56 سے قوم نے قلم دوات کو جتوانا ہے اور امریکا سے اڑان بھرنے والوں کو بتانا ہوگا کہ قوم زندہ ہے، انہیں دولت سے خریدا نہیں جا سکتا۔ ان شا اللہ 8 فروری 2024 کو قلم دوات کی تاریخی جیت ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دھند کے باعث پاکستان میں فضائی آپریشن متاثر

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘