گلیات کا چکن روسٹ ’پٹاخہ چکن‘ کیوں کہلاتا ہے؟

جمعرات 22 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلیات کے رہائشی وقار امر کے دادا کا گلیات میں ڈھابہ ہوتا تھا جہاں لگ بھگ نصف صدی قبل انہوں نے منفرد چکن روسٹ متعارف کرایا جو وقت کے ساتھ ساتھ سیاحوں اور مقامی باشندوں کو بھاتا چلا گیا، یہاں تک کہ اب یہ ایک طرح سے گلیات کی سوغات بن چکا ہے اور ’پٹاخہ چکن‘ کے نام سے مشہور ہے۔

امر وقار کے دادا کا ڈھابہ اب گلیات کے زیرو پوائنٹ پر ایک بڑے ہوٹل کا روپ دھار چکا ہے، جہاں ہر وقت سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے، جن میں سے بیشتر صرف یہاں کی سوغات پٹاخہ چکن کا سن کر ہی آتے ہیں۔

امر وقار کے مطابق خوبصورت اور منفرد چیز کو پٹاخہ کہا جاتا ہے اور چکن روسٹ کا ذائقہ استعمال ہونیوالے مصالحے خاص طور پر کٹی ہوئی سرخ مرچوں کی وجہ سے مختلف ہے، اسی لیے اسے ’پٹاخہ چکن‘ کہا جاتا ہے، جو سخت سردی میں بھی پسینہ نکال دیتا ہے۔

امر وقار نے وی نیوز کو بتایا کہ یوں تو ان کے ہوٹل میں ہر قسم کے کھانے تیار کیے جاتے ہیں، لیکن سیاح سب سے زیادہ ’پٹاخہ چکن‘ہی پسند کرتے ہیں۔ ’۔۔۔ایک ہی وقت ایک ہزار تک چکن روسٹ آرڈر آتے ہیں، جو سیاح گلیات آتے ہیں وہ چکن پٹاخہ کا آرڈر ضرور کرتے ہیں۔ ‘

امر وقار کے مطابق چکن پٹاخہ کے لیے وہ اسپیشل مصالحہ تیار کرتے ہیں، جس میں سرخ مرچوں کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے، مزید اس ویڈیو رپورٹ میں۔۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘