نواز شریف کا سعودی الدانوب سپراسٹور سے کیا تعلق ہے؟

پیر 18 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیر اعظم نوازشریف سے متعلق سنہ 2000 سے ایک جھوٹ تعاقب کر رہا ہے کہ ان کا سعودی عرب میں قائم الدانوب سپراسٹور میں حصہ ہے۔

سعودی عرب میں خلیجی چینل پر عبد اللہ المدیفر ہررمضان کو اللیوان کے نام سے شو کرتے ہیں، جس میں وہ سعودی معاشرے کی نمایاں شخصیات کا انٹرویو کرتے ہیں۔

مشہور سعودی برانڈ بن داؤد کے مالکوں میں سے ایک عبد الرزاق بن داؤد نے اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ نواز شریف کا ان کے کاروبار میں حصہ دار بننا ایک ایسی افواہ ہے جو ان کا سنہ 1999 سے تعاقب کر رہی ہے۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے عبدالرزاق بن داؤد نے بتایا کہ بن داؤد گروپ نے سنہ 2000 میں الدانوب کو خریدا تھا۔ ’اس سے ایک روز قبل میاں نواز شریف اپنی فیملی کے ہمراہ جدہ میں واقع الدانوب اسٹور میں خریداری کے لیے آئے، جس کے اگلے روز ہماری ڈیل ہوئی، تو نہ جانے لوگوں نے کیسے انہیں الدانوب کے ساتھ منسلک کردیا۔‘

 

عبد الرزاق بن داؤد کے مطابق ان کے شریف فیملی سے کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عرب نیوز جریدے نے جب اس حوالے سے نواز شریف سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے اسے ایک مذاق قرار دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

          کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

64 سال کی عمر میں بھی ٹام کروز اتنے فِٹ کیسے ہیں؟ اداکار نے اپنی فٹنس کا راز بتا دیا

امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ، ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

شمالی پہاڑی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب کا خدشہ، متعدد سڑکیں بند

ویڈیو

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

کالم / تجزیہ

          کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی