افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج نفرت اور بربریت کے علم بردار، مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب

جمعرات 13 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج جیسے عناصر اسلام کے نام کو اپنے سیاسی اور انتہا پسند مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ گروہ معصوم انسانوں کا خون بہانے، خودکش حملے کرنے اور مساجد کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات سے اسلام کو دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کی سہولت کاری کے بغیر پاکستان پر حملے ممکن نہیں، ثبوت موجود ہیں، عطااللہ تارڑ

افغان طالبان رجیم اماراتِ اسلامی کے نعرے لگانے کے باوجود بھارت میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا ہے اور پاکستان پر ہونے والے دہشتگردانہ اقدامات پر خاموش رہتا ہے۔

اس عمل سے ان کی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وہ دہشتگردانہ کارروائیوں کے ذریعے بھارت کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی، ایران نے مصالحتی کردار کی پیشکش کردی

اسلام امن و امان کا پیغام دیتا ہے، جبکہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج نفرت اور بربریت کے علم بردار ہیں، اور ان کا مکروہ چہرہ اب دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے بیانات کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہیں، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

پنجگور واقعہ: سی ٹی ڈی اور پولیس کا بروقت اور جرات مندانہ ردعمل قابلِ تحسین، وزیر اعلیٰ بلوچستان

امریکا میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا، 4 مشتبہ افراد گرفتار

2026 معیشت کے لیے نہایت کٹھن سال، پیٹرولیم لیوی کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا ہوگا، مزمل اسلم

ویڈیو

فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کا نمبر؟ سہیل آفریدی کی پالیسی مکمل ناکام

خیبر پختونخوا میں بھی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کارروائیاں شروع، کیا کے پی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گئی؟

چارسدہ کا ماحول دوست سروس اسٹیشن: صفائی اور پانی کی بچت ایک ساتھ

کالم / تجزیہ

اگلی بار۔ ثاقب نثار

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟

شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی